پروفیشنلز کی جال میں پھنسا امریکی جمہوری نظام

نور محمد مری، ایڈووکیٹ

اگرچہ آج کا امریکی نظام اپنی سابقہ روایات کے مقابلے میں بڑی حد تک میرٹ پر قائم ہے، لیکن جمہوریت اپنے گہرے اخلاقی اور سماجی معنی میں جڑ نہیں پکڑ سکی۔ یہی اصل تضاد ہے۔ امریکہ خود کو دنیا کی قدیم ترین مسلسل جمہوریت قرار دیتا ہے، مگر اگر اس کے اداروں کی کارکردگی کو قریب سے دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ جمہوریت کا دعویٰ زیادہ تر طریقہ کار پر قائم ہے، نہ کہ ریاست اور معاشرے کے درمیان کسی حقیقی تعلق پر۔ میں اکثر محسوس کرتا ہوں کہ نظام تو مضبوط ہے مگر جمہوریت کی روح—عام آدمی سے قربت، اس کی آواز سننا، اور اخلاقی جواب دہی—آہستہ آہستہ کمزور پڑ گئی ہے۔

اس تضاد کی سب سے بنیادی وجہ یہ ہے کہ پورا امریکی نظام حد سے زیادہ پروفیشنلزم میں جکڑا ہوا ہے۔ ہر شعبے پر ماہرین کی حکمرانی ہے۔ ڈاکٹر، سائنس دان، ٹیکنوکریٹ، اکانومسٹ، پالیسی اینالسٹ—یہی وہ لوگ ہیں جو نظام کی سمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ بظاہر یہ بندوبست مثالی لگتا ہے، کیونکہ خیال یہ ہے کہ ماہرین بہتر فیصلے کرتے ہیں اور جذباتی یا قبائلی تعصبات سے پاک ہوتے ہیں۔ لیکن ایک ایسا نظام جو مکمل طور پر پروفیشنلز کے ہاتھوں میں ہو، اپنے اندر ایک خطرہ رکھتا ہے—اور میرا خیال ہے کہ یہ خطرہ اب ڈھانچے کی کمزوری میں بدل رہا ہے—کہ یہ پروفیشنلز اُس معاشرے سے تقریباً کٹے ہوئے ہوتے ہیں جس پر وہ حکمرانی کرتے ہیں۔

ایک پروفیشنل کی بنیادی وابستگی اُس کے شعبے، اُس کے ادارے، اور اُس تربیت سے ہوتی ہے جس نے اسے پیدا کیا۔ اُس کی دنیا ریسرچ پیپرز، ڈیٹا سیٹ، قوانین، مینوؤلز اور تجزیاتی ماڈلز پر کھڑی ہوتی ہے۔ جبکہ معاشرہ اس طرح صاف اور ترتیب یافتہ شکل میں موجود نہیں ہوتا۔ معاشرہ اپنی الجھنوں، تضادات، ثقافتی پیچیدگیوں اور اخلاقی نزاکتوں کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔ ایک سائنس دان جو روز دس گھنٹے لیبارٹری میں بیٹھ کر کوئی سماجی یا ماحولیاتی پالیسی تیار کررہا ہو، وہ تکنیکی اعتبار سے جتنا بھی ذہین کیوں نہ ہو، لیکن وہ اُن لوگوں کا تاریخی وزن اور جذباتی تجربہ نہیں رکھتا جو اس پالیسی کو بھگتیں گے۔ ایک ڈاکٹر اپنی فیلڈ کا بہترین ماہر ہوسکتا ہے، مگر وہ نہیں جانتا کہ بیمہ کے بغیر، غربت میں جینا، یا معاشرتی طور پر غیر مرئی ہونا کیسا ہوتا ہے۔ ایک اکانومسٹ انفلیشن پر بحث تو کرسکتا ہے، لیکن وہ اس گھر کی مایوسی کو نہیں سمجھ سکتا جو ماہ کے آخر میں کرایہ تک ادا نہیں کر سکتا۔

یہ فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ میں حکمران طبقہ نہ تو جاگیردار ہے نہ قبائلی سردار، بلکہ پروفیشنلز پر مشتمل ہے۔ مگر پروفیشنلزم سے پیدا ہونے والا فاصلہ کسی جاگیرداری فاصلے سے کم نہیں۔ جاگیردار کم از کم عوام کے درمیان رہتا تھا، پروفیشنل ڈیٹا کے اندر رہتا ہے۔ جاگیردار معاشرے کی نفسیات کو سمجھتا تھا، چاہے وہ اُسے دباتا ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن جدید پروفیشنل جذباتی طور پر غیر حاضر ہے۔ وہ فیصلہ تو کرتا ہے، مگر اس معاشرے کا حصہ نہیں ہوتا۔ وہ حکومت کرتا ہے، مگر اپنے عوام کے دکھ سکھ کو نہیں جانتا۔

آہستہ آہستہ نظام معاشرے سے دور سرکتا چلا جاتا ہے۔ یہ سرکنا خاموش ہے مگر مستقل ہے۔ ہر نیا قانون، ہر نئی ٹیکنالوجی، ہر نئی پالیسی—جسے ماہرین ترتیب دیتے ہیں—معاشرے اور نظام کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ واشنگٹن میں بننے والی پالیسی کاغذ پر تو عقلی لگتی ہے، مگر ایک عام گھر تک پہنچتے پہنچتے وہ غیر فطری محسوس ہوتی ہے۔ یوں جمہوریت کا مطلب کم ہونے لگتا ہے، کیونکہ فیصلے اب عوام کے اجتماعی تجربے سے نہیں بلکہ اُن ماہرین کے ذہنوں سے جنم لیتے ہیں جو عوام کو صرف نمبروں، نمونوں اور ڈیٹا کی صورت میں دیکھتے ہیں۔

امریکہ کا میرٹ پر مبنی نظام کارکردگی تو دیتا ہے لیکن تعلق نہیں دیتا۔ ذہانت پیدا کرتا ہے، مگر فہم نہیں۔ ماہرین پیدا کرتا ہے، مگر رہنما نہیں۔ جمہوریت کا اصل تصور یہ تھا کہ عام لوگ اپنی زندگی کے تجربات اور صدیوں کی اجتماعی حکمت کے ساتھ ریاست کی راہ متعین کریں۔ لیکن اب ہم دیکھتے ہیں کہ فیصلہ سازی اُن ہاتھوں میں ہے جو معاشرے سے جذباتی طور پر جڑے ہوئے ہی نہیں۔ اور جب تعلق کمزور ہوجائے تو جمہوریت ایک رسم رہ جاتی ہے—الیکشن، مباحثے، میڈیا ڈرامہ—جبکہ حقیقی حکومت اُن کے ہاتھوں میں رہتی ہے جو عوام کی نبض سے ناواقف ہوتے ہیں۔

میرے نزدیک جدید پروفیشنلزم دراصل نئی اشرافیہ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ یہ جاگیرداری یا نسل در نسل طاقت نہیں، بلکہ تعلیم، ادارے اور نیٹ ورکس کی بنیاد پر قائم ہے۔ پروفیشنل طبقہ سمجھتا ہے کہ چونکہ وہ معاشرے کو پڑھتا ہے اس لئے اسے سمجھ بھی لیتا ہے، لیکن معاشرہ صرف پڑھنے سے نہیں سمجھا جا سکتا، اسے جینا پڑتا ہے۔ جب نظام اُن لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے جو عوام کی طرح زندگی نہیں گزارتے، تو وہ حقیقت سے کٹ جاتا ہے۔ اور جب نظام حقیقت سے کٹ جائے تو جمہوریت کتنی ہی مضبوط دکھائی دے، اندر سے کھوکھلی ہوجاتی ہے۔

اس سے ایک خفیہ تکبر بھی پیدا ہوتا ہے۔ پروفیشنل ذہن میں یہ گمان بیٹھ جاتا ہے کہ پیچیدگی صرف وہی سمجھ سکتا ہے اور عام آدمی اپنی بہتری کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ یہ پدرانہ سوچ ہر پالیسی کے پیچھے چھپی ہوتی ہے—چاہے وہ ٹیکس اصلاحات ہوں، صحت کا نظام ہو، خارجہ پالیسی ہو یا عدالتی اصلاحات۔ لیکن انسان کے مسائل محض ریاضیاتی مسئلے نہیں ہوتے۔ اُن کے لیے ہمدردی، تاریخی شعور، ثقافتی فہم اور جذباتی رشتہ ضروری ہوتا ہے۔ ایک ایسا نظام جو صرف تکنیکی عقل پر کھڑا ہو، وہ اس حقیقت کو بھول جاتا ہے۔

ہمارے سامنے نتیجہ ہے: معاشرہ ایک طرف جا رہا ہے اور نظام دوسری طرف۔ امریکہ میں بڑھتی ہوئی عوامی بےچینی، اداروں پر عدم اعتماد، اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف غصہ اسی دوری کا نتیجہ ہے۔ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ وہ سنے نہیں جا رہے، ان کی نمائندگی نہیں ہو رہی۔ وہ ووٹ تو دیتے ہیں مگر یہ احساس نہیں رکھتے کہ اُن کے نمائندے اُن کی زندگیوں کو سمجھتے ہیں۔

یوں امریکی نظام ایک واضح تضاد پر کھڑا ہے۔ میرٹ اور پروفیشنلزم نے اداروں کو تو مضبوط کر دیا، مگر جمہوریت کی روح کو کمزور کر دیا۔ مہارت نے انتظامی کارکردگی بہتر کی، مگر عوام کی ملکیت کا احساس کمزور ہو گیا۔ نظام باہر سے مضبوط لگتا ہے مگر اندر ایک خاموش بے ربطی بڑھ رہی ہے۔

آخر میں، اگر مستقبل کی ریاستیں اس حقیقت کو نظر انداز کریں کہ ٹیکنالوجی، مہارت اور پروفیشنلزم انسانی تعلق کی جگہ نہیں لے سکتے، تو ان کا انجام بھی یہی ہوگا۔ جو نظام معاشرے کو بھول جائے وہ ٹوٹنے لگتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ ہمیں پاکستان میں اس سے سیکھنا ہوگا۔ ہمیں پروفیشنلزم، مہارت اور جدید علم کو ضرور فروغ دینا چاہیے، مگر اپنے ماہرین، اپنے افسران، اور اپنے پالیسی سازوں کو معاشرے کی اصل زندگی سے کبھی دور نہیں ہونے دینا چاہیے۔ کوئی قوم محض ٹیکنالوجی سے نہیں بچتی، بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اخلاقی و جذباتی رشتے سے بچتی ہے۔ اگر ہم یہ رشتہ کھو دیں تو پھر دنیا کی کوئی مہارت یا کارکردگی ہمیں اُس جمہوری کھوکھلے پن سے نہیں بچا سکتی جس کا سامنا آج طاقتور ترین قومیں بھی کر رہی ہیں۔

نور محمد مری صاحب کا تعلق اسلام آباد سے ہے اور وہ نامور قانوندان اور ثالث ہیں.
اپنا تبصرہ لکھیں