نصیر میمن
شدید سیلابوں نے پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ اگست میں مون سون کی بارشوں نے مختلف علاقوں میں تباہی مچائی۔ مہینے کے پہلے نصف میں گلگت اور ہنزہ کے پہاڑوں پر ہونے والی تیز بارشوں نے برفانی تودے، پتھر اور مٹی کے ہزاروں ٹن نیچے گرا دیے۔ درجنوں سیاح جان سے گئے اور سیکڑوں لوگ چلاس، استور اور اردگرد کے علاقوں میں کئی دنوں تک پھنسے رہے۔ بونیر، شانگلہ اور سوات اگست کے تیسرے ہفتے میں غیر معمولی بارشوں اور پہاڑی سیلابوں سے تباہ ہوئے۔ ان اضلاع میں 300 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔ اگست کے آخری ہفتے میں مون سون کی شدید بارشوں نے پنجاب اور سندھ کا رخ کیا۔ بھارت سے آنے والے تیز پانی کے ریلوں نے ہماچل پردیش، پنجاب اور جموں و کشمیر میں تباہی مچانے کے بعد تباہ کن سیلاب کو جنم دیا۔ پنجاب کے بعد ایک بڑا سیلاب سندھ کی طرف بڑھا جو اب تک جاری ہے۔
2010ء اور 2022ء میں سندھ کو خوفناک سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 2022ء کا سیلاب حالیہ تاریخ کا بدترین تھا جس نے 1 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا۔ 20 لاکھ سے زیادہ گھر تباہ ہوئے۔ لگ بھگ 20 ہزار اسکولوں کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ غیر معمولی بہاؤ اور مہینوں تک جمی رہنے والی سیلابی صورتحال نے سیلاب سے بچاؤ کے ڈھانچوں، سڑکوں اور پینے کے پانی کی اسکیموں کو بھی بھاری نقصان پہنچایا۔ 2010ء میں سندھ میں 70 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے۔ اگرچہ دونوں سیلابوں کی نوعیت مختلف تھی، لیکن بڑے پیمانے پر تباہی دونوں بار ہوئی۔ تب سے لے کر اب تک سندھ میں گڈو بیراج پر 5 لاکھ کیوسک سے زیادہ بہاؤ والے 4 بڑے سیلاب آ چکے ہیں۔ یہ پانچواں بڑا سیلاب ہے جس کے بارے میں شروع میں خدشہ تھا کہ یہ 8 لاکھ کیوسک کے سپر فلڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ گڈو اور سکھر بیراج دونوں ایک ملین کیوسک کے بہاؤ کو محفوظ طریقے سے گزار سکتے ہیں۔
گڈو اور سکھر بیراج صوبے کے لیے نہایت حساس اور اہم ڈھانچے ہیں، اس لیے کوئی بھی حکومت ان کو نقصان پہنچنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ اب تک بہاؤ گڈو اور سکھر بیراج کے ڈیزائن شدہ بہاؤ کے اندر ہی رہا ہے، لیکن درمیانے سے بڑے سیلاب کی وجہ سے کچے کے علاقوں میں رہنے والے ہزاروں خاندانوں کا عارضی طور پر بے گھر ہونا ناگزیر ہے۔ سندھ اور پنجاب کے دریائی کچے میں بڑے پیمانے پر تجاوزات ہیں جو سیلابی تحفظ کے ڈھانچوں کے لیے خطرہ بن گئی ہیں۔ ان میں دریا کے راستے میں بنائے گئے غیر قانونی بند، بڑی انسانی آبادیاں اور زرعی زمینیں شامل ہیں۔ بااثر افراد نے بڑے پیمانے پر کچے کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کیے ہیں جنہیں چھڑانے کے لیے حکومت کے پاس نہ نیت ہے نہ ہمت۔
سپریم کورٹ کی جانب سے 2022ء میں بنائی گئی فلڈ انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں ان تجاوزات کے بارے میں تفصیلی مشاہدات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’کچے کی زمینوں پر ہزاروں ایکڑ غیر قانونی طور پر مقامی بااثر افراد کے قبضے میں ہیں یا نامناسب چارجز پر لیز پر دیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں نجی بند تعمیر ہوئے ہیں۔ دریاؤں اور نہروں کے کناروں پر گھروں اور دیگر عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دی گئی ہے۔ پانی کے قدرتی بہاؤ کو روکا گیا ہے۔ بدقسمتی سے مقامی اور صوبائی حکومتوں نے خود ان غیر قانونی اقدامات کو فروغ دینے میں حصہ لیا ہے جس سے رکاوٹیں بڑھ گئی ہیں۔ یہ تمام تجاوزات پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کرنے کا سبب بنی ہیں جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں سیلاب آیا ہے۔ قانون کے مطابق دریاؤں/نہروں کے کنارے سے 200 فٹ کے فاصلے پر کسی بھی قسم کے ڈھانچے کی تعمیر کی اجازت نہیں ہے۔ حکومتوں کو اس کو درست کرنا چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ کوئی تجاوزات نہ ہوں اور نہ ہی زمین فروخت یا لیز پر دی جائے۔ حکومتوں کو چاہیے کہ تمام تجاوزات کو سختی سے ختم کرنے کے اقدامات کریں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حالیہ سیلاب میں تباہ شدہ غیر قانونی تعمیرات کو دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔‘‘
جنوری 2021ء میں سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ آبپاشی کے محکمے کی زمینوں سے تجاوزات 30 جون 2021ء تک ہٹائی جائیں۔ اس سے پہلے 14 جنوری 2020ء کو سندھ ہائی کورٹ نے سندھ حکومت کو ایک ماہ میں تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے 2023ء میں دوسرا حکم جاری کیا جس میں سندھ حکومت کو بلوچستان سے منچھڑ جھیل تک پانی کے قدرتی بہاؤ میں موجود 11 رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیا گیا۔ تاہم صوبائی حکومت نے یہ غیر قانونی تجاوزات نہیں ہٹائیں۔
2013ء میں سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی نے انڈس کے بائیں کنارے کے لیے ریجنل ماسٹر پلان تیار کیا تھا۔ رپورٹ میں کنسلٹنٹس نے تقریباً ایک درجن بند کیے گئے قدرتی راستوں کی نشاندہی کی اور ان کی بحالی کے لیے 357.5 ملین ڈالر کی لاگت سے منصوبے تجویز کیے۔ باقی بچ جانے والے علاقوں میں سیلابی پانی کے نکاس کے نیٹ ورک کے لیے 253.1 ملین ڈالر کی لاگت سے الگ منصوبے کا کہا گیا۔ یہ رقم 2022ء میں سندھ کو ہونے والے نقصان کے مقابلے میں معمولی خرچ تھی لیکن اس رپورٹ پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ یہ قدرتی راستوں کے بند کیے گئے لنگھ سندھ کے لیے ہر مون سون میں خطرہ بنے رہتے ہیں۔
اگست میں گڈو بیراج نے دو بڑے سیلابوں کو محفوظ طور پر گزارا جن کا بہاؤ 5 لاکھ کیوسک سے زیادہ تھا۔ اگرچہ اس کے باعث کچے کے علاقے میں لوگوں کو عارضی طور پر بے گھر ہونا پڑا، لیکن ساتھ ہی سندھ کے ڈیلٹا والے اضلاع میں رہنے والے 20 لاکھ سے زیادہ افراد کے چہروں پر رونق بھی آئی۔ پورے سال کی خشکی کے بعد بمشکل کوٹری بیراج کے نیچے انڈس کو کئی دنوں تک ایک لاکھ کیوسک سے زیادہ کا صحت مند بہاؤ ملا۔
اگرچہ مہا سیلاب کا خطرہ کم ہوگیا ہے لیکن اس کا خدشہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ سندھ کے لیے ایک بڑا چیلنج اس کی ہموار زمین ہے جس کی وجہ سے بارش یا سیلاب کا پانی آسانی سے نکلنے کے بجائے پھنس جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پنجاب کی زمین ڈھلوان والی ہے جہاں پانی زیادہ دیر نہیں ٹھہرتا۔ اس بات کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ چناب پاکستان میں سیالکوٹ کے قریب داخل ہوتا ہے جس کی سمندر سے بلندی 256 میٹر ہے، جبکہ پنجاب کے سندھ سے متصل شہر رحیم یار خان کی سمندر سے بلندی 83 میٹر ہے۔ ان دونوں سرے والے شہروں میں 173 میٹر کی بلندی کا فرق ہے۔ دوسری طرف سندھ کے شمالی بڑے شہر گھوٹکی کی بلندی اور سمندر کے قریب تعلقہ ہیڈکوارٹر شاہ بندر کے درمیان صرف 32 میٹر کی بلندی کا فرق ہے۔ اس کم ڈھلوان والی ہموار پٹی میں پانی شمال سے جنوب کی طرف سمندر تک نکلنے میں زیادہ وقت لیتا ہے۔ اس صورتحال میں جب پانی کے قدرتی راستے بھی قابض ہوں تو پانی کا نکاس انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اور بہاؤ زیادہ وقت پھنسے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2022ء کے سیلاب کا پانی کئی مہینوں تک پھنسا رہا اور نکاس نہ ہو سکا۔
اس وقت خوش قسمتی سے دریائے سندھ میں بہاؤ کم ہے لیکن پنجند کے مقام پر چناب اور ستلج کا مشترکہ بہاؤ 6 لاکھ کیوسک سے اوپر ہے۔ اس حساب سے گڈو بیراج پر بہاؤ 7 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے۔ بھارت سے ایک کے بعد دوسرا نیا ریلہ آ رہا ہے۔ باکڑا اور پونگ ڈیم بھر جانے کے بعد وہاں برسنے والی زیادہ بارش کا پانی براہ راست پنجاب پہنچ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تریموں بیراج پر پانی کی سطح مسلسل برقرار ہے۔ اس حساب سے لگتا ہے کہ گڈو بیراج اور سکھر پر 7 لاکھ کیوسک کا بہاؤ ایک دو دن کے لیے نہیں بلکہ شاید ہفتہ دس دن تک گزرتا رہے۔ اس دوران پورا کچا پانی کے نیچے آ چکا ہو گا اور پانی بندوں کو آزماتا رہے گا۔
طویل مدت میں سیلاب کے حل کے لیے سندھ میں دریا کے اندر اور دھوروں کے راستوں سے رکاوٹیں ہٹانی ہوں گی۔ جب تک سندھ میں پانی کے قدرتی راستوں سے رکاوٹیں نہ ہٹائی جائیں، ہر سال مون سون کی بارشیں اور دریاؤں کے بہاؤ سندھ کے لیے سیلاب کا اندیشہ اور خطرہ لاتے رہیں گے۔
(محترم نصیر میمن پاکستان کے نامور ماہر معاشیات و اقتصادیات ہیں، وہ آبپاشی نظام پر گہری نظر رکھتے ہیں، معاشیات، اقتصادیات اور آبپاشی پر وہ پاکستان کے سندھی، اردو اور انگریزی اخبارات میں کالم لکھتے رہتے ہیں۔ ان کا یہ کالم سندھی روزنامے کاوش کی 9 ستمبر کی اشاعت میں شایع ہوا، انڈس ٹربیون کے قارئین کیلئے یہ کالم اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے)