اسلام آباد:(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں کم از کم 48 اہم ایرانی شخصیات ہلاک ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی قیادت کا ڈھانچہ “تقریباً تباہ” ہو چکا ہے اور بعض اہلکار پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے ہتھیار ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ، بشمول اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی، نے گزشتہ دو روز کے دوران متعدد اعلیٰ عہدیداروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں، جو مبینہ طور پر ہفتے کے روز ہونے والے حملوں میں مارے گئے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق 86 سالہ خامنہ ای اپنے اہلِ خانہ کے چند افراد کے ہمراہ جان کی بازی ہار گئے۔
اہم ہلاک شدگان کی فہرست
سرکاری اور غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والے اعلیٰ حکام میں شامل ہیں:
علی شمخانی – سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور سابق جوہری مذاکرات کار
عبدالرحیم موسوی – چیف آف اسٹاف، ایرانی مسلح افواج
محمد پاکپور – کمانڈر انچیف، اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC)
(نوٹ: وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ کی ہلاکت سے متعلق ابتدائی اطلاعات بعد ازاں سرکاری وضاحت کے بعد مسترد کر دی گئیں۔)
رپورٹس کے مطابق علی شمخانی ایران اور مغربی دنیا کے درمیان سفارتی روابط میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے تھے، جبکہ عبدالرحیم موسوی نے ایران کے میزائل اور دفاعی پروگرام کی نگرانی کی۔ محمد پاکپور طویل عرصے تک IRGC کی زمینی افواج کی قیادت سے وابستہ رہے۔
عبوری قیادت کا اعلان
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق عبوری طور پر ایک تین رکنی کونسل ریاستی امور سنبھالے گی، جس میں صدر مسعود پیزشکیان، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجی اور گارڈین کونسل کے ایک فقیہ شامل ہوں گے۔ مزید برآں، سینئر مذہبی شخصیت علی رضا عرفی کو باضابطہ جانشین کے تقرر تک سپریم لیڈر کے فرائض انجام دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
پس منظر اور ممکنہ اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو نئی سطح پر لے جا سکتی ہے۔ عالمی برادری خطے کی بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ سفارتی ذرائع کسی ممکنہ وسیع علاقائی تصادم کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
بی بی سی طرز کی رپورٹنگ کے مطابق مختلف ذرائع سے موصولہ اطلاعات کی آزادانہ تصدیق فی الحال ممکن نہیں، تاہم صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ مزید تفصیلات سامنے آنے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔