امریکہ۔اسرائیلی حملے 165 طالبات کی اجتماعی جنازہ، ہزاروں افراد کی شرکت

مناب(ویب ڈیسک) ایران کے جنوبی شہر مناب میں ایک گرلز اسکول پر مبینہ امریکی۔اسرائیلی حملے میں 165 طالبات اور عملے کی ہلاکت کے بعد ہزاروں افراد نے اجتماعی جنازے میں شرکت کی اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

ایرانی حکام کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے اس حملے میں ایک پرائمری گرلز اسکول کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے اس واقعے کو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی قرار دیا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے اس علاقے میں کسی اسرائیلی یا امریکی حملے کا علم نہیں۔

خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کی منگل کو نشر کی جانے والی تصاویر میں دیکھا گیا کہ ہزاروں افراد مناب کے ایک مرکزی چوک میں جمع ہیں۔ مرد اسلامی جمہوریہ ایران کے پرچم لہرا رہے تھے جبکہ خواتین سیاہ چادروں میں ملبوس علیحدہ کھڑی دکھائی دیں۔

اسٹیج سے خطاب کرتے ہوئے ایک خاتون، جنہوں نے خود کو طالبہ “اتینا” کی والدہ بتایا، متاثرہ بچیوں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ “امریکی جرائم کی دستاویز” ہے اور ان بچیوں نے “راہِ خدا میں جان دی”۔ شرکا نے “امریکہ مردہ باد”، “اسرائیل مردہ باد” اور “سرنڈر نامنظور” کے نعرے لگائے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ 160 سے زائد معصوم بچیاں امریکی۔اسرائیلی بمباری میں جاں بحق ہوئیں۔ انہوں نے تازہ کھودی گئی قبروں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “یہی وہ حقیقت ہے جسے نجات کا نام دیا جا رہا ہے، غزہ سے مناب تک معصوموں کا قتل کیا جا رہا ہے”۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے الزام عائد کیا کہ امریکہ اور اسرائیل رہائشی علاقوں کو اندھا دھند نشانہ بنا رہے ہیں اور اسپتالوں، اسکولوں، ہلال احمر کی تنصیبات اور ثقافتی مقامات کو بھی نہیں بخشا جا رہا۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ حملہ امریکہ کی جانب سے کیا گیا ہوتا تو اس کی تحقیقات کی جاتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ جان بوجھ کر کسی اسکول کو نشانہ نہیں بناتا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی میڈیا کو بتایا کہ شہری ہلاکتوں کی اطلاعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ثقافتی و تعلیمی ادارے یونیسکو اور نوبیل امن انعام یافتہ تعلیمی کارکن ملالہ یوسفزئی نے واقعے کی مذمت کی ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت تعلیمی اداروں اور دیگر شہری تنصیبات کو دانستہ نشانہ بنانا جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے۔

ایرانی حکام نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسپتالوں اور اسکولوں پر حملوں کا نوٹس لے اور ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرے۔ خطے میں کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے بھی مختلف مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں