گھوٹکی/سکھر (رپورٹ: تاج رند) مبینہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے پر گھوٹکی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اعظم چاچڑ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مختلف تھانوں میں متعدد مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، جبکہ ان کے بقول مقدمات اس قدر تیزی سے درج ہو رہے ہیں کہ صحیح تعداد کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ضلع سکھر کے تھانہ پنوعاقل میں سرکار اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں کی مدعیت میں چند گھنٹوں کے دوران تین مقدمات درج کیے گئے۔ اس کے علاوہ روہڑی، جھانگڑو اور دیگر تھانوں میں بھی پیکا ایکٹ کے تحت پانچ سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔




اسی طرح ضلع گھوٹکی کے تھانہ اے سیکشن، میرپور ماتھیلو، جروار اور اوباڑو سمیت دیگر تھانوں میں بھی سرکار اور پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں کی مدعیت میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق درج مقدمات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم محمد اعظم چاچڑ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جن میں فیس بک اور ٹک ٹاک شامل ہیں، پر صدر پاکستان آصف علی زرداری اور ان کی صاحبزادی رکن قومی اسمبلی و خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے۔
اس حوالے سے پنوعاقل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما جمال عبدالناصر بھٹو نے کہا کہ اعظم چاچڑ خود کو سوشل ورکر ظاہر کر کے لوگوں کو بلیک میل کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی روایات کے برعکس آصفہ بھٹو زرداری جیسی خاتون کے خلاف نامناسب الفاظ استعمال کیے گئے، جس پر انہوں نے مقدمہ درج کروایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی صورت اپنی پارٹی قیادت کے خلاف نامناسب زبان برداشت نہیں کریں گے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اعظم چاچڑ نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے آصفہ بھٹو زرداری کے خلاف کوئی نازیبا لفظ استعمال نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خواتین کا احترام کرتے ہیں اور اگر ان پر لگایا گیا الزام ثابت ہو جائے تو وہ سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔
اعظم چاچڑ کے مطابق انہوں نے اپنی وی لاگ میں صوبائی وزیر صنعت و تجارت اکرام اللہ دھاریجو سے متعلق سوال اٹھایا تھا کہ وہ گزشتہ دس برس سے ایک ہی محکمے کے وزیر ہیں اور اس دوران سندھ کے کتنے بے روزگار نوجوانوں کو صنعتی اداروں میں روزگار ملا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین میونسپل کمیٹی گھوٹکی آصف رضا کی جانب سے تین ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے دعوے پر انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر اتنی بڑی رقم خرچ ہوئی ہے تو زمین پر منصوبوں کا کام کیوں نظر نہیں آ رہا۔
اعظم چاچڑ نے الزام لگایا کہ ترقیاتی اسکیموں میں مبینہ کرپشن اور حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھانے کی وجہ سے انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی وزیر اکرام اللہ دھاریجو تنقید کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرواتے ہیں، سرکاری ملازمین کے تبادلے کرواتے ہیں اور سرکاری کوارٹرز کی الاٹمنٹ منسوخ کرواتے ہیں۔
متعدد مقدمات کے زد میں آنے والے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اعظم چاچڑ کے کزن ایڈووکیٹ محمد حسن چاچڑ نے رابطہ کرنے دی انڈس ٹربیون کو بتایا کہ “اعظم کے خلاف چوبیس گھنٹوں کے دوران اتنی تیزی سے مقدمات درج ہو رہے ہیں کہ یہ بتایا نہیں جا سکتا کہ اب تک کتنے ایف آئی آرز درج کئے گئے ہیں، تاہم اندازہ ہے کہ اب تک دو درجن مقدمات کئے گئے ہیں”.
یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل پنوعاقل کے مقامی صحافی منیب انڈہڑ کے خلاف بھی صوبائی وزیر اکرام اللہ دھاریجو پر تنقیدی پوسٹ کرنے پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔