بھارت میں مسلم رہنماؤں کی جانب سے گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ

نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارت میں عیدالاضحیٰ سے کے موقعے پر گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبے نے نئی سیاسی اور سماجی بحث چھیڑ دی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ماضی میں اس نوعیت کے مطالبات عموماً ہندو قوم پرست حلقوں کی جانب سے سامنے آتے رہے ہیں، تاہم اس بار بعض مسلم رہنماؤں اور تنظیموں نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔

گائے ہندو مذہب میں مقدس جانور سمجھی جاتی ہے اور بھارت کی بیشتر ریاستوں میں اس کے ذبح پر مختلف درجوں کی پابندیاں عائد ہیں۔ حالیہ برسوں میں گائے کے نام پر ہجوم کے تشدد اور مذہبی کشیدگی کے متعدد واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

یہ بحث اس وقت مزید زور پکڑ گئی جب مغربی بنگال میں نئی حکومت کی جانب سے مئی میں ایک حکم نامہ جاری کیا گیا، جس کے تحت گائے، بیل، بھینس یا بچھڑے کے ذبح سے قبل مقامی حکام اور سرکاری ویٹرنری سرجن سے خصوصی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد مویشیوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

جمعیت علمائے ہند کے صدر ارشد مدنی نے کہا کہ گائے کے نام پر ہونے والے تشدد، نفرت انگیز سیاست اور بے گناہ افراد کے قتل کو روکنے کے لیے گائے کو قومی جانور قرار دینا ایک مستقل حل ہو سکتا ہے۔

اس صورتحال کے بعد مسلمانوں کے بعض حلقوں نے گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ شروع کیا۔ بی بی سی کے مطابق بھارت کی معروف مذہبی تنظیم جمعیت علمائے ہند کے صدر ارشد مدنی نے کہا کہ گائے کے نام پر ہونے والے تشدد، نفرت انگیز سیاست اور بے گناہ افراد کے قتل کو روکنے کے لیے گائے کو قومی جانور قرار دینا ایک مستقل حل ہو سکتا ہے۔

بھارت کے سابق نائب صدر محمد حامد انصاری نے بھی اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس اقدام سے مذہبی تنازعات اور تشدد میں کمی آ سکتی ہے تو اس پر غور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مسلمانوں سے عیدالاضحیٰ کے موقع پر گائے کی قربانی سے اجتناب کرنے کی اپیل بھی کی۔

دوسری جانب بھارتی حکومت نے واضح کیا ہے کہ فی الحال گائے کو قومی جانور قرار دینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ وفاقی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے کہا کہ اس حوالے سے کابینہ کے سامنے کوئی معاملہ موجود نہیں اور نہ ہی حکومت اس وقت کسی ایسے اقدام پر غور کر رہی ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ گائے ہندو معاشرے کے لیے ماں کا درجہ رکھتی ہے اور اس کے لیے کسی سرکاری اعلان یا قانونی حیثیت کی ضرورت نہیں۔

ماہرین قانون کے مطابق بھارت کا قومی جانور اس وقت رائل بنگال ٹائیگر ہے، جسے 1972 میں قومی جانور قرار دیا گیا تھا۔ اگر گائے کو بھی قومی جانور کا درجہ دیا جاتا ہے تو اس کے تحفظ کے لیے سخت قانونی اقدامات درکار ہوں گے اور ممکنہ طور پر اس کے ذبح اور گوشت کی تجارت پر ملک گیر پابندی عائد ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے مذہبی، سیاسی اور معاشی پہلو موجود ہیں، کیونکہ بھارت گوشت خصوصاً بھینس کے گوشت کی برآمدات کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے، جبکہ مختلف ریاستوں میں مویشیوں سے متعلق قوانین بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ اگرچہ فی الحال ایک سیاسی و سماجی بحث کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے، تاہم اس نے بھارت میں مذہب، قانون اور معاشی مفادات کے درمیان توازن کے حوالے سے نئی گفتگو کو جنم دے دیاہے.

اپنا تبصرہ لکھیں