سکھر(رپورٹ: تاج رند)سنگرار سے اغوا ہونے والی کمسن بچی پریا کماری کی بازیابی کے لیے تحقیقات کو مؤثر بنانے کی غرض سے ڈی آئی جی سکھر ناصر آفتاب پٹھان نے نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کی سفارش آئی جی سندھ کو ارسال کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ 9 رکنی جے آئی ٹی کی سربراہی ڈی آئی جی سکھر کریں گے، جبکہ اس میں ایس ایس پی سکھر، ایس ایس پی شکارپور، ایس ایس پی لاڑکانہ، ڈی ایس پی سکھر سمیت سندھ پولیس کے افسران کے علاوہ آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور رینجرز انٹیلی جنس کے نمائندوں کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی تشکیل کا حتمی فیصلہ اور باقاعدہ نوٹیفکیشن آئی جی سندھ کی منظوری کے بعد جاری کیا جائے گا۔
پریا کماری کو 19 اگست 2021 کو یومِ عاشور کے روز سکھر کے نواحی علاقے سنگرار سے اغوا کیا گیا تھا۔ اس سے قبل بھی اس کیس کی تحقیقات کے لیے دو مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں، تاہم دونوں کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔
دوسری جانب پریا کماری ایکشن کمیٹی کی جانب سے ببرلوء بائی پاس پر لاپتہ بچوں کی بازیابی کے لیے احتجاجی کیمپ مسلسل بارہویں روز بھی جاری رہا، جہاں مظاہرین نے حکومت سے پریا کماری سمیت دیگر لاپتہ بچوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ دہرایا۔
پارلیمانی مائنارٹی کاکس کے سربراہ سینیٹر دنیش کمار نے بھی نئی جے آئی ٹی کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمانی مائنارٹی کاکس کی سفارشات پر حکومت سندھ نے کیس میں پیش رفت کی ہے۔ ان کے مطابق تمام اہم انٹیلی جنس اداروں کی شمولیت سے تحقیقات زیادہ مؤثر اور جامع ہونے کی امید ہے۔
اس سے قبل سندھ بار کونسل بھی پریا کماری سمیت سندھ بھر کے لاپتہ بچوں کی بازیابی کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فوری اور مؤثر اقدامات پر زور دے چکی ہے۔