سکھر(رپورٹ: تاج رند) سندھ میں ڈاکو راج، بھتہ خوری، قتل وغارت اور برادری جھگڑوں کے خلاف جمعیت علمائے اسلام (ف) نے گیارہ ستمبر کو کشمور سے کراچی تک “سندھ امن مارچ” کر کے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دہرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔
جی یو آئی سندھ کی جانب سے جمعرات کے روز سکھر کے نجی ہوٹل میں صوبائی امیرعبدالقیوم ہالیجوی کی زیرصدارت دوسرا “سندھ امن جرگہ” منعقد کیا گیا۔
سندھ امن جرگے میں جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل راشد محمود سومرو، ڈپٹی سیکٹری محمد صالح انڈھڑ، سراج احمد امروٹی، معظم عباسی، سابق ایم این اے ڈاکٹر محمد ابراہیم جتوئی، معظم بروہی، تیغو تیغانی، شاہزین بجارانی، طاہر امتیاز پھلپوٹو، دیدار جتوئی، عبدالنبی تہیم، علی گوہر انڈھڑ، افتخار لونڈ، مبین بلو، پپو چاچڑ سمیت درجنون برادری رہنما اور جے یو آئی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔جبکہ جے یو آئی کے مطابق جرگے میں سندھ بھر کے ڈیڑھ سو سے زائد برادری رہنماؤں کو مدعو کیا گیا تھا، جس میں بیشتر برادری رہنما جن کا تعلق حکمران جماعت پیپلز پارٹی سے ہے جرگے میں نہیں آئے۔
4 گھنٹے طویل امن جرگے میں متعدد رہنماؤں نے سندھ میں ڈاکو راج اور قتل وغارت اور اس پر حکومتی بے حسی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
کشمور تا کراچی “امن مارچ اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دہرنے کا اعلان
جرگے کے اختتام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے یو آئی سندھ کے سیکٹری جنرل راشد محمود سومرو نے کہا کہ “سندھ امن جرگہ” میں مختلف برادری رہنماؤں اور علماء نے سندھ میں ڈاکو راج، اسٹریٹ کرائم، قتل وغارت، برادری جھگڑوں کا ذمہ دار سندھ حکومت اور سکیورٹی اداروں کو قرار دیا ہے۔
انہوں نے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ “ڈاکو راج اور قتل و غارت پر حکومتی بے حسی کے خلاف گیارہ ستمبر سے کشمور سے “سندھ امن مارچ” کا آغاز کیا جائے گا۔ جو کہ شکارپور، سکھر، خیرپور، نوشہروفیروز، نوابشاھ، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، بدین، سجاول اور ٹھٹھہ کے راستے کراچی پہنچے گا، کراچی پہنچنے پر ہزاروں کارکنان کے ساتھ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دہرنا دیا جائے گا۔ اگر پہر بھی حکمرانوں نے نوٹس نہیں لیا تو اگلی باری اسلام آباد کی طرف مارچ کیا جائے گا۔
سکیورٹی اداروں کے ناک کے نیچے خطرناک اسلحے کی سمگلنگ
جے یو آئی رہنما راشد محمود سومرو نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ “تین سال سے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے نام پر دو کھرب روپے خرچ کئے گئے ہیں، لیکن اس کے باوجود سندھ میں ڈاکو راج کا خاتمہ نہیں ہو رہا، بلکہ دن بدن امن امان کی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔ پولس اور رینجرس کے ناک کے نیچے خطرناک اسلحے کی سمگلنگ ہو رہی ہے۔”
“ڈاکو خود چمن بارڈر پہنچ کر تو اسلحہ نہیں لاتے، بارڈر سے کچے تک درجنون پولس اور رینجرس چوکیوں سے گذرتا ہوا اسلحہ ڈاکوؤں تک کیسے پہنچتا ہے؟” راشد سومرو نےکہا۔
ہزاروں لوگوں کا قتل اور سینکڑوں اغوا
اپنی پریس کانفرنس میں راشد محمود سومرو نے انکشاف کیا کہ حکومتی رپورٹس کے مطابق چند سالوں کے دوران سندھ میں سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ قتل کئے گئے، جبکہ شیرخوار بچوں اور بزرگوں سمیت 4-4 سؤ لوگ بیک وقت ڈاکوؤں کے چنگل میں رہے۔
برادری جھگڑے بدامنی کی اصل وجہ
جرگے متعدد برادری رہنماؤں اور مذہبی علماء نے شمالی سندھ میں بدامنی اور ڈاکو راج کی اصل وجہ برادری جھگڑوں کو قرار دیا۔ رہنماؤں نے جرگے سے خطاب میں کہا کہ برادری جھگڑوں کے باعث لوگ اسلحہ خرید لیتے ہیں، لوگ جب ایک بار اسلحہ اٹھا لیتے ہیں تو پہر جرائم کی وارداتیں کرنا شروع کرتے ہیں۔ برادری جھگڑے ختم کئے جائیں تو اسی فیصد لوگ ازخود اسلحہ پھینگ دیں گے۔
جے یوآئی رہنما راشد محمود سومرو نے کہا کہ جے یو آئی کی جانب سے کراچی سمیت سندھ کے متعدد شہروں میں ہزاروں لوگوں کے امن مارچ کے بعد مختلف ڈاکوؤں نے براردری تنازعات ختم کرنے کی شرط پر سرینڈر ہونے کا اعلان کیا، اس سلسلے میں انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور ڈی جی رینجرس سمیت متعدد حکام سے ملاقاتیں کی مگر کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔
برادری رہنماؤں اور ڈاکوؤں کے پاس منت سماجت کرنے کا اعلان
“سندھ امن جرگہ” کے اعلامیے میں بتایا گیا کہ امن امان کی قیام کیلئے کوشش کے مقصد کے تحت جرگے میں شامل برادری رہنماؤں و جے یو آئی کے علماء کی قیادت میں جھگڑوں میں مصروف برادریوں کے پاس منت سماجت قافلے لے جا کر برادری جھگڑے ختم اور آپس میں صلح کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ راشد محمود سومرو نے کہا کہ ڈاکوؤں کے پاس بھی منت سماجت قافلے لے کر جائیں گے اور کے کہیں گے کہ “آپ اور حکومت کے مابین کشیدگی کے باعث سندھ کے نہتے عام شہری بھگت رہے، خدا کے واسطے شاہ لطیف اور سچل کی امن پسند دھرتی پر خون بہانا بند کریں”۔ انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان، وزیراعظم، آرمی چیف، ڈی جی رینجرس، ونگ کمانڈرس سمیت تمام حکام کو خط لکھ کر “سندھ امن جرگہ” کا اعلامیہ پہنچایا جائے گا۔
راشد محمود سومرو نے سندھ حکومت کے وزراء کی جانب سے سندھ کی امن و امان صورتحال کا بلوچستان اور کے پی کیساتھ موازنہ کرنے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ “سندھ کے حالات بلوچستان اور پختونخواہ سے بھی بدتر ہیں، فرق یہ ہے کہ سندھ میں ڈاکو نہتے عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ بلوچستان اور کے پی میں عوام نے ریاست سے بغاوت شروع کر دی ہے اور مسلحہ گروپس سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، سرکاری ملازمین کو اغوا کر رہے ہیں، گذشتہ دنوں بھی بلوچستان میں دہشتگردوں کی جانب سے پاک فوج کے جوانوں کو بیدردی کے ساتھ شہید کیا گیا، سندھ حکومت یہی چاہتی ہے کہ بلوچستان اور پختوخواھ کے لوگوں کی طرح سندھ کی عوام بھی امن و امان اور اپنے حفاظت کیلئے خود اسلحہ اٹھائیں”
ہندو مذہبی اقلیتیں خصوصی نشانے پر
بعد ازاں جرگہ جے یو آئی سندھ کے رہنما راشد محمود سومرو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر میں ہندو مذہبی اقلیتیں سرکاری سرپرستی میں ڈاکوؤں کے نشانے پر ہیں، لاڑکانہ، نوڈیرو میں ہندو تاجروں کو بھتہ نہ دینے پر قتل کیا گیا، لاڑکانہ میں مندر پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کیا گیا، سکھر میں ہندو تاجروں کو متعدد بار لوٹا گیا، بھتہ نہ دینے پر ڈاکٹر کرپال داس پر قاتلانہ حملہ کر کے اس کے اسسٹنٹ کو قتل کیا گیا۔
سکھر سے اغوا کی گئی ہندو بچی پریا کماری کی اغوا کو چار سال گذر چکے ہیں لیکن سکیورٹی ادارے اور حکومت جھوٹ در جھوٹ بولتے آ رہے ہیں، چار سال گذرنے کے باوجود نہ تو پریا کماری کو بازیاب کیا گیا اور نہ یہ بتایا گیا کہ آخر وہ بچی کہاں گئی، زمین نگل گئی یا آسمان لے گیا؟ انہوں نے کہا کہ خدانخواستہ پریا کماری کی جگہ وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی اغوا ہوجاتی تو کیا حکومت کا رویہ یہی ہوتا؟
“سندھ دھرتی ہندوؤں کی جنم بھومی ہے، وہ سندھ کے اصل وارث ہیں، ڈاکوؤن کے ذریعے ہندوؤں کو تنگ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنا وطن چھوڑ کر چلے جائیں، لیکن میں ہندو بھائیوں کو اپیل کرتا ہوں کو وہ وطن چھوڑنے کے بجائے ڈٹ کر ظلم کا مقابلہ کریں، ظلم کو ایک دن ضرور مٹ جانا ہے” راشد محمود سومرو نے کہا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال پر غوروفکر کرنے کیلئے 25 اگست کو کراچی میں جے یو آئی سندھ کے جنرل کاؤنسل کا اجلاس بھی بلایا گیا ہے، جس میں جے یو آئی کے سربراہ فضل الرحمان خصوصی شرکت کریں گے۔ اجلاس میں سندھ میں بدامنی کے خلاف اہم اور سخت فیصلے کئے جائیں گے۔