اسلام آباد — اقتصادی رابطہ کمیٹی (ایکنک) نے حیدرآباد-سکھر موٹروے منصوبے کے پانچ میں سے تین سیکشنز کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ ان سیکشنز پر 306 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر کے لیے 363 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ تعمیراتی فنڈز اسلامی ترقیاتی بینک فراہم کرے گا۔
منظور کیے گئے حصوں میں سکھر، رانی پور اور نوشہرو فیروز کے سیکشن شامل ہیں، جو مکمل ہونے کے بعد موٹروے کا نیٹ ورک نواب شاہ تک پہنچ جائے گا۔ منصوبے کے باقی دو حصے — ٹنڈو آدم اور حیدرآباد — آئندہ مرحلے میں منظور کیے جائیں گے۔
ایکنک اجلاس میں روہڑی سے رانی پور تک موجودہ مین ہائی وے کو چھ لینز تک وسیع کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ اس کے ساتھ مہران ہائی وے کے 135 کلومیٹر حصے کو کشادہ کرنے، سانگھڑ سے روہڑی تک 221 کلومیٹر سڑک کو وسیع کرنے اور روہڑی سے گڈو تک 150 کلومیٹر طویل شاہراہ کو ڈبل کرنے کے منصوبے بھی منظور کر لیے گئے۔
دیگر منصوبوں میں ٹھٹھہ کاسٹل ہائی وے کے 36 کلومیٹر حصے کی تعمیر اور ٹنڈو آدم سے ٹنڈو الہ یار تک 31 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر شامل ہے۔
پس منظر
حیدرآباد-سکھر موٹروے پاکستان کے جنوبی حصے کا ایک اہم اسٹریٹیجک ٹرانسپورٹ کوریڈور تصور کیا جاتا ہے، جو کراچی اور وسطی پنجاب کے درمیان سفر کا وقت کم کرے گا اور سندھ کے بڑے شہروں کو جدید سفری سہولیات سے جوڑے گا۔ یہ منصوبہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کی بڑی اسکیموں میں شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل سے سندھ میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ، زرعی و صنعتی پیداوار کی بہتر ترسیل اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ منصوبہ طویل عرصے سے التوا کا شکار رہا۔ جولائی 2020 میں پہلی بار ایکنک کے اجلاس، جس کی صدارت اُس وقت کے وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کی تھی، میں 306 کلومیٹر طویل موٹروے کی منظوری دی گئی تھی۔
یہ موٹروے کراچی-حیدرآباد موٹروے (ایم-9) کے اختتام سے شروع ہو کر نارو کینال (سکھر-ملتان موٹروے ایم-5 کے آغاز) تک جائے گی اور جامشورو، ٹنڈو آدم، ہالا، شاہدادپور، نوابشاہ، مورو، دادو، نوشہرو فیروز، مہرابپور، رسولپور، لاڑکانہ، خیرپور اور سکھر سے گزرے گی۔