کراچی(انڈس ٹربیون) سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے جب پارٹی کے رکن اسمبلی شوکت راجپوت نے اپنی ہی جماعت کے اراکین شارق جمال اور انجینئر عثمان پر سنگین الزامات عائد کر دیے۔
شوکت راجپوت کے سنگین الزامات
ایم پی اے شوکت راجپوت کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق خالد مقبول صدیقی گروپ سے ہے جبکہ شارق جمال اور انجینئر عثمان کا تعلق سابق پی ایس پی گروپ سے ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شارق جمال نے انہیں ایوان کے اندر دھمکی دی کہ “باہر نکل تو تجھے دیکھ لیں گے”۔
شوکت راجپوت نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں، اگر دھمکیاں دینے والوں کے خلاف مقدمہ درج نہ ہوا تو وہ اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے کر دوبارہ وکالت شروع کر دیں گے اور پھر دیکھیں گے کہ کون انہیں دھمکی دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دی گئی دھمکیاں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 504 اور 506 کے زمرے میں آتی ہیں، لہٰذا اسپیکر رولنگ دے کر ایس ایس پی کو طلب کریں اور ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی دھمکی سے خوفزدہ ہونے والے نہیں، اور انہیں ڈرانے والے یاد رکھیں کہ وہ سندھ دھرتی کے بیٹے اور راجپوت خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر کا ردعمل
متحدہ کے رکن اور اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے معاملے کو پارٹی کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے باہمی مشاورت سے حل کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شوکت راجپوت بزرگ ہیں اور ممکن ہے روزے کی حالت میں انہوں نے جذباتی بیان دے دیا ہو۔
حکومتی وزراء کا موقف
گھرو وزیر ضیا لنجار نے ایوان میں یقین دہانی کرائی کہ شوکت راجپوت ایک معزز رکن اسمبلی ہیں اور انہیں مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی جان و مال کو کوئی نقصان پہنچا تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے واضح کیا کہ یہ اسمبلی ہے، کوئی اکھاڑا نہیں، کسی کو دھمکیاں دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسپیکر کی رولنگ اور کارروائی
اسپیکر اويس قادر شاہ نے رولنگ دیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ کو طلب کر لیا اور شوکت راجپوت کا بیان ریکارڈ کر کے قانونی کارروائی کی ہدایت جاری کی۔
اس کے علاوہ اسپیکر نے ایوان کے اندر شوکت راجپوت کو مبینہ طور پر بار بار دھمکانے اور آنکھیں دکھانے پر انجینئر عثمان کی معافی تک ان کی رکنیت معطل کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔
اجلاس کے دوران پیش آنے والے اس واقعے نے ایم کیو ایم کے اندر جاری اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو آئندہ دنوں کی سیاست کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔