سکھر(رپورٹ:تاج رند) قمبر شہدادکوٹ سے تعلق رکھنے والے درجنوں ٹھیکیداروں نے ساڑھے تین ارب روپے مالیت کے ٹینڈرز میں مبینہ سنگین بے ضابطگیوں، جعلسازی اور اقربا پروری کے خلاف سکھر میں پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ سکھر کے چیف انجنیئر کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین میں افسر علی عباسی، ظہیر عباس شاہانی، ملازم حسین لغاری، نیاز حسین بروہی، وکیش کمار وکی سمیت دیگر ٹھیکیدار شامل تھے۔
مظاہرین کا الزام ہے کہ چیف انجنیئر سکھر برکت خواجہ، ایکسین پبلک ہیلتھ قمبر مصور نظیر کلہوڑو اور ٹینڈر کلرک ایوب سومرو کی مبینہ ملی بھگت سے قمبر شہدادکوٹ میں پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کے ساڑھے تین ارب روپے کے ٹینڈرز میں حصہ لینے والے ڈیڑھ سو سے زائد ٹھیکیداروں کے پے آرڈر اور دستاویزات واپس کر دی گئیں، جبکہ بھاری کمیشن کے عوض من پسند ٹھیکیداروں کو ورک آرڈر جاری کیے جا رہے ہیں۔
احتجاج کرنے والے ٹھیکیداروں کے مطابق این آئی ٹی نمبر 1198 کے تحت 18 کام، این آئی ٹی نمبر 1183 میں 46 کام اور این آئی ٹی نمبر 1214 میں 12 کاموں کے لیے نیلامی کا اعلان کیا گیا تھا۔ 14 اکتوبر کو ٹینڈر اوپننگ کے روز تمام ممبران کی موجودگی کے باوجود ایکسین نے اچانک اوپننگ ملتوی کر کے اگلے دن کا اعلان کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگلے دن کی اوپننگ میں مبینہ طور پر جعلسازی کرتے ہوئے 10 کاموں میں ردوبدل کیا گیا اور مزید 8 کام شامل کر دیے گئے۔
ٹھیکیداروں نے مزید الزام عائد کیا کہ 25 جنوری کو آخری ٹینڈر اوپننگ کے موقع پر 98 ٹھیکیداروں نے حصہ لیا، تاہم 70 کو بلاجواز ڈس کوالیفائی کر دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سیکنڈ لوویسٹ اور تھرڈ کے سی ڈیز موجود ہی نہیں تھے، اس کے باوجود انہیں واک میں شامل کر لیا گیا، جبکہ وہ بنیادی اہلیت پر بھی پورا نہیں اترتے تھے۔

مظاہرین کے مطابق مجموعی طور پر 80 کاموں کے ٹینڈرز کی فیس 50 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے، لیکن تاحال سرکاری خزانے میں محض تین لاکھ روپے جمع کروائے گئے ہیں، جو ایک سنگین مالی بے ضابطگی کی نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ٹینڈر اوپننگ کے لیے مقررہ 90 دن کی قانونی مدت 12 جنوری کو ختم ہو چکی تھی، مگر قواعد کے برخلاف اسے مزید دو ماہ کے لیے بڑھا دیا گیا، جسے ٹھیکیداروں نے کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
احتجاج کے دوران صورتحال اس قدر کشیدہ ہو گئی کہ مظاہرین کے مطابق چیف انجنیئر دفتر چھوڑ کر چلے گئے۔ ٹھیکیداروں نے مطالبہ کیا کہ گزشتہ سال کے آخری کوارٹر میں پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ قمبر شہدادکوٹ میں ساڑھے تین ارب روپے کے ٹینڈرز میں ہونے والی مبینہ ہیرا پھیری، جعلسازی اور اقربا پروری کا فوری نوٹس لیا جائے، تمام متنازع ٹینڈرز منسوخ کیے جائیں اور شفاف طریقے سے نئے سرے سے ٹینڈرز جاری کیے جائیں۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر اعلیٰ حکام نے فوری کارروائی نہ کی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔