ٹھٹہ(انڈس ٹربیون)سندھ کے معروف ماہر آبپاشی، محقق، مصنف اور سابق چیف انجنیئر اوبھایو خشک انتقال کر گئے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق وہ کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں زیرعلاج تھے جہاں ہفتے کی صبح ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی میت بذریعہ ایمبولینس ٹھٹہ پہنچا دیا گیا. ٹھٹہ کے کاشی گر محلہ میں نماز جنازہ ادا کرنے کےبعد آبائی قبرستان میں انہیں مٹی ماں کے حوالے کیا گیا۔ آخری رسومات میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی.
انجنیئر اوبھایو کے انتقال سے سندھ ایک ایسے دانشور، ماہرِ آبی وسائل اور عوامی مفکر سے محروم ہو گیا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی سندھو دریا، آبی وسائل اور سندھ ڈیلٹا کے تحفظ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
انجنیئر خشک کو آبی وسائل کے شعبے میں ایک مستند آواز سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے پانی کے مسائل کو صرف انجنیئرنگ کے نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ سماجی، معاشی، ماحولیاتی اور تاریخی تناظر میں بھی اجاگر کیا۔ سندھو دریا کے بہاؤ، پانی کی تقسیم، آبپاشی نظام، زیرِ زمین پانی، سندھ ڈیلٹا کی تباہی، سمندری چڑھاؤ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر ان کی تحقیق کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔

انجنئیراوبھایو خشک ماہر آبپاشی کے ساتھ مایہ ناز محقق بھی تھے، وہ پاکستان میں پانی کی تقسیم، سندھ-پنجاب پانی تنازعہ، پاکستان میں پانی پر سیاست سمیت مختلف موضوعات پرسندھی، اردو اور انگریزی زبان میں آدھی درجن سے زائد بے مثال کتابوں کے مصنف بھی رہے. جن میں سندھی میں (١)سندھو جو رستو نہ روکیو (٢) سندھ-پنجاب پانی مامرو(٣) بھاشا ڈیم سندھ لاء تریاق یا زہر (٤)جیکی پڑھیم (٥)امید خواب جی جاگ (٦)تاریخ سندھ-سندھ میں عرب، (٧) دریائے سندھ کو بچاؤ (اردو میں) اور (٨) The Hydro Politics in Pakistan (انگریزی میں) شامل ہیں.
ماحولیات کے ماہر پروفیسر اسماعیل کنبھر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ انجنیئر اوبھایو خشک ان چند ماہرین میں شامل تھے جو پانی کے مسائل کو ہمہ جہت انداز میں سمجھتے اور بیان کرتے تھے۔ انہوں نے سندھو ڈیلٹا کی بقا، ماحولیاتی بہاؤ اور سندھ کے پانی کے حقوق کے لیے بھرپور آواز اٹھائی اور اپنی تحریروں و تقاریر کے ذریعے ان اہم مسائل کو مسلسل اجاگر کرتے رہے۔
مرحوم متعدد اہم کتابوں کے مصنف تھے جن میں آبی وسائل، ہائیڈرو پولیٹکس، سندھو دریا اور سندھ کے پانی کے حقوق سے متعلق تحقیقی کام شامل ہے۔ ان کی معروف کتاب “Hydro Politics in Pakistan” علمی حلقوں میں خاصی مقبول رہی، جس میں پاکستان کی آبی سیاست اور سندھ کو درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
انجنیئر اوبھایو خشک کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ پیچیدہ فنی اور سائنسی موضوعات کو عام فہم انداز میں بیان کرتے تھے۔ انہوں نے انجنیئرز، پالیسی سازوں، طلبہ، اساتذہ، صحافیوں اور سول سوسائٹی میں پانی کے مسائل کے حوالے سے شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ماہرین کے مطابق ان کی خدمات آبی وسائل کے بہتر انتظام، ماحولیاتی تحفظ، سندھو ڈیلٹا کے تحفظ اور عوامی مفاد پر مبنی آبی حکمرانی کے فروغ کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کے انتقال پر علمی، ادبی، صحافتی اور سماجی حلقوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے سندھ کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔