ملک مخالف سرگرمیوں کا الزام، این سی سی آئی اے نے ایاز لطیف پلیجو اور ریاض چانڈیو طلب کر لیا، سندھ میں تشویش

کراچی (انڈس ٹربیون) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی نے مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر ملک مخالف مواد شیئر کرنے کے الزام میں قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو اور جئے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض چانڈیو کو طلب کر لیا ہے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے نوٹسز کے مطابق دونوں رہنماؤں کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت جاری کال اپ نوٹسز میں این سی سی آئی اے کراچی کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ریاض چانڈیو کو جاری نوٹس کے مطابق انہیں انکوائری نمبر 1398/2026 کے سلسلے میں 10 اگست 2026 کو صبح 11 بجے این سی سی آئی اے کراچی کے دفتر میں طلب کیا گیا ہے۔ نوٹس میں شکایت کنندہ کی حیثیت ریاست کو ظاہر کیا گیا ہے جبکہ الزامات میں سوشل میڈیا پر ملک مخالف پوسٹس شیئر کرنا شامل ہے۔

دوسری جانب قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کو انکوائری نمبر 1399/2026 کے تحت جاری کال اپ نوٹس میں 14 اگست 2026 کو سہ پہر 3 بجے این سی سی آئی اے سندھ زون کراچی کے دفتر میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ وہ انکوائری کے سلسلے میں اپنا مؤقف پیش کر سکیں۔

دونوں نوٹسز میں کہا گیا ہے کہ مقررہ تاریخ اور وقت پر پیش نہ ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے اور متعلقہ قانونی دفعات کے تحت مزید کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی تقسیم سے متعلق بیانات پر سندھ کی سیاسی، سماجی، قومپرست اور مذہبی جماعتوں نے شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ متعدد قومپرست اور سیاسی جماعتوں، جن میں ایاز لطیف پلیجو اور ریاض چانڈیو کی جماعتیں بھی شامل ہیں، سندھ کی تقسیم کی کسی بھی تجویز کے خلاف سخت سیاسی اور عوامی مزاحمت کا اعلان کر چکی ہیں۔

اس پیش رفت پر مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایاز لطیف پلیجو اور ریاض چانڈیو کو سندھ کی تقسیم کے خلاف ان کے سخت مؤقف کی وجہ سے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم، اس تاثر کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں ہوئی اور این سی سی آئی اے کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب این سی سی آئی اے کی جانب سے انکوائری کی مزید تفصیلات بھی تاحال سامنے نہیں آئی ہیں، جبکہ ایاز لطیف پلیجو اور ریاض چانڈیو کی جانب سے نوٹسز پر باضابطہ ردعمل کا انتظار ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں