سندھ ایکشن کمیٹی کا اجلاس، سندھ کی امکانی تقسیم کے خلاف سخت مزاحمت کا اعلان

جامشورو (انڈس ٹربیون) سندھ ایکشن کمیٹی کا اہم اجلاس جی ایم سید ایڈفیس جامشورو میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے قائم مقام صدر روشن علی برڑو کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، سندھ کی وحدت، صوبائی خودمختاری، پانی، قدرتی وسائل اور مجوزہ آئینی ترامیم سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے صوبوں سے متعلق بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ سندھ 6 کروڑ سندھیوں کا ناقابلِ تقسیم تاریخی وطن ہے، جو 1940 کی قرارداد کے تحت اس ملک میں خودمختار اکائی کے طور پر شامل ہوا تھا۔

شرکاء نے کہا کہ اگر مقتدر حلقوں یا حکمرانوں کی جانب سے سندھ کی وحدت پر حملہ کیا گیا تو اس کے خلاف سخت مزاحمت کی جائے گی۔ اجلاس کے مطابق ایسا اقدام 1940 کی قرارداد اور 1973 کے آئین کو عملی طور پر ختم کرنے کے مترادف ہوگا، جس کے بعد سندھ اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ مختصر عرصے کے دوران 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کو کمزور، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد اور میڈیا کی آواز دبائی گئی، جبکہ ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لا کی صورتحال پیدا کرکے کشمیر، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بے گناہ افراد کے قتل اور سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں سے خوف کا ماحول پیدا کیا گیا۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حکمران فوری طور پر مستعفی ہوں، تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، شفاف انتخابات کرائے جائیں اور 26ویں و 27ویں آئینی ترامیم ختم کی جائیں۔

اجلاس میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے الزام عائد کیا کہ اس ترمیم کے ذریعے سندھ کی وحدت، مالی وسائل، دریائے سندھ، ساحلی پٹی، معدنیات اور زمینوں پر اختیار حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اجلاس نے خبردار کیا کہ ایسی ترمیم ملک میں مزید انتشار پیدا کرے گی اور اس کے نتیجے میں ملک کی سالمیت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، جس کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔

سندھ ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم فوری طور پر واپس لی جائے اور سندھ اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلا کر نئے صوبوں کے مطالبے کے خلاف قرارداد منظور کی جائے۔ اجلاس میں سندھ کی وحدت کے خلاف بیانات دینے والوں کے خلاف قانون سازی اور قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

شرکاء نے کہا کہ سندھ کے مختلف علاقوں اور مختلف زبانیں بولنے والے 6 کروڑ عوام سندھ کی تقسیم کے خلاف ہیں اور اسے اپنا متحد وطن سمجھتے ہیں۔ اجلاس میں نام نہاد قومی میڈیا اور پنجاب کے بعض سیاستدانوں کی جانب سے سندھ کی تقسیم سے متعلق بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں جلالپور کینال کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس منصوبے کے ذریعے 1991ء کے پانی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ شرکاء نے اریگیشن ڈیپارٹمنٹ کو وفاق کے حوالے کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دریائے سندھ پر نئے کینال اور ڈیم بنانے کی سازش کی جا رہی ہے، جسے سندھ کے عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ سندھ ایکشن کمیٹی بلدیاتی نظام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے خلاف نہیں، تاہم آئین کے آرٹیکل 140 کے تحت صوبائی خودمختاری کو متاثر کرنے والے کسی بھی ایسے نظام کی مخالفت کی جائے گی جس سے صوبوں کے اختیارات عملاً ختم ہوں۔

شرکاء نے کہا کہ ماضی میں ون یونٹ کے دوران سندھ کے بعض منتخب نمائندوں نے سندھ کو مرکز کے حوالے کرکے تاریخی غلطی کی، تاہم اب سندھ کے عوام اسمبلیوں میں موجود تمام ارکان کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ سندھ کی وحدت کے خلاف کسی بھی اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

اجلاس میں سندھ کی وحدت کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دی جائے گی۔ قومی تحریک کے رہنماؤں ایاز لطیف پلیجو اور ریاض چانڈیو کو این سی سی آئی اے کے نوٹسز جاری کیے جانے کی بھی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ایسے نوٹس فوری طور پر منسوخ کیے جائیں۔

اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ 22 اگست کو حیدرآباد میں سندھ کی وحدت کے تحفظ، غیر قانونی کینالز اور سندھ کی مالی خودمختاری کے خلاف عوامی احتجاج کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سندھ بھر کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں عوامی رائے عامہ اور سیاسی شعور بیدار کرنے کے لیے تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

شرکاء کے مطابق اس اتحاد کو مزید وسیع کرنے کے لیے ستمبر میں کراچی میں گرینڈ کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں اور دیگر قوموں کے قومی رہنماؤں کو مدعو کیا جائے گا۔

اجلاس میں جئے سندھ قومی محاذ (شہید بشیر خان قریشی) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی، پورہیت مزاحمت تحریک کے صدر سید مسرور شاہ، جئے سندھ قومی پارٹی کے چیئرمین نواز خان زئونر، عوامی جمہوری پارٹی کے جنرل سیکریٹری سید لال شاہ، قومی عوامی تحریک کے جنرل سیکریٹری مظہر راہوجو، جئے سندھ محاذ کے سینئر وائس چیئرمین سید نواز شاہ بھاڈائی، نیشنل پارٹی سندھ کے صدر تاج مری، عوامی ورکرز پارٹی (مارکسٹ) کے مرکزی رہنما بخشل تھلہو، سندھ صوفی فورم کے کنوینر ڈاکٹر بدر چنا، سندھ بار کونسل کے رکن ایڈووکیٹ کے بی لغاری، سندھ ہاری کمیٹی کے رہنما احمد نواز انقلابی، ایس یو پی کے مرکزی سیکریٹری جنرل منیر نائچ، نامور صحافی نعمت کھڑو سمیت دیگر مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں