شاہ عبداللطیف یونیورسٹی نے 1184وکلاء کا ریکارڈ جعلی قرار دے دیا، گورکھ دھندے میں ملوث 16 لا کالجز کے نام سامنے آگئے

خیرپور(انڈس ٹربیون) شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور نے تین سالہ اور پانچ سالہ ایل ایل بی پروگراموں کے 1184 امیدواروں کا تعلیمی ریکارڈ غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی بنیاد پر جاری ہونے والے نتائج، ٹرانسکرپٹس اور ڈگریوں کو بھی غیر مؤثر قرار دے دیا ہے۔ متاثرہ امیدواروں میں 658 امیدوار تین سالہ اور 526 امیدوار پانچ سالہ ایل ایل بی پروگرام سے تعلق رکھتے ہیں۔

یونیورسٹی کے رجسٹرار کی جانب سے 16 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ معاملہ 2016، 2017 اور 2018 کے تین سالہ ایل ایل بی امتحانات اور پانچ سالہ ایل ایل بی پروگرام کے 2017 کے بیچ سے متعلق ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے 11 اپریل 2026 کو ہونے والے 92ویں اجلاس میں منظور کردہ قراردادوں کے تحت قائم انکوائری کمیٹی نے یونیورسٹی اور متعلقہ الحاق شدہ لا کالجز کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی۔ کمیٹی نے بعض تعلیمی ریکارڈ کو مشتبہ قرار دیا، جن کے بارے میں شبہ تھا کہ انہیں قانونی اختیار کے بغیر یونیورسٹی کے امتحانی ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔

یونیورسٹی نے 7 جولائی 2026 کو عوامی نوٹس جاری کرتے ہوئے متعلقہ امیدواروں سے اپنے تعلیمی ریکارڈ کی قانونی حیثیت ثابت کرنے کے لیے دستاویزی شواہد طلب کیے تھے۔ کمیٹی نے موصولہ درخواستوں اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ متنازعہ ریکارڈ یونیورسٹی کے قانونی تعلیمی ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے۔

16 لا کالجز اور کیمپس کے امیدواروں کا معاملہ

دستیاب معلومات کے مطابق جعلی قرار دیے گئے امیدواروں میں سندھ کے مختلف شہروں کے 16 لا کالجز اور کیمپس سے منسوب امیدوار شامل ہیں۔ ان اداروں میں ایس ڈی کے لا کالج جیکب آباد، حاجی مولا بخش سومرو لا کالج شکارپور، الفلاح لا کالج کندھ کوٹ، ایس این ایم کے بی لا کالج کندھ کوٹ، مرزا لا کالج پنوعاقل، آغا بدرالدین لا کالج سکھر، قاضی میاں احمد قریشی لا کالج مورو، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کیمپس نوشہرو فیروز، کیو ایم اے کیو مورو، عبدالواحد سومرو لا کالج کشمور، الفلاح لا کالج کشمور، مشعل لا کالج ڈہرکی، شہید بینظیر بھٹو لا کالج لاڑکانہ، فیض محمد سہتو لا کالج کنڈیارو، کانٹینینٹل لا کالج نوشہرو فیروز اور بی بی زیڈ لا کالج جیکب آباد شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ امیدواروں کو ان لا کالجز کے طلبہ ظاہر کرکے مبینہ طور پر جعلی ڈگریاں جاری کی گئیں۔ تاہم، ہر ادارے سے متعلق امیدواروں کی تعداد اور انفرادی ریکارڈ کی تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔

مبینہ جعلی ڈگریوں کے اجرا میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟

انکوائری کمیٹی کی جانب سے چھ ماہ کی جانچ پڑتال کے بعد 1184 امیدواروں کا ریکارڈ غیر قانونی قرار دیے جانے کے باوجود ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ ریکارڈ یونیورسٹی کے امتحانی نظام میں غیر قانونی طور پر شامل کیا گیا تو اس عمل میں مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں کی نشاندہی کیوں نہیں کی گئی۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یونیورسٹی میں برسوں سے مبینہ طور پر فی ڈگری 3 سے 5 لاکھ روپے کے عوض جعلی ڈگریاں جاری کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ ان دعوؤں کے مطابق یونیورسٹی کی سیکریٹ برانچ، انسپکٹر آف کالجز اور متعلقہ دفاتر کے بعض افسران اور کلرکس مبینہ طور پر اس معاملے میں ملوث رہے ہیں۔

تاہم، دستیاب نوٹیفکیشن میں ان اہلکاروں کے نام، ان کے خلاف تحقیقات یا کسی تادیبی کارروائی کی سفارش کا ذکر موجود نہیں ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔

ڈگریاں غیر مؤثر، مگر ذمہ داروں کا تعین باقی

شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے نوٹیفکیشن کے مطابق مذکورہ ریکارڈ کی بنیاد پر تیار یا حاصل کیے گئے امتحانی نتائج، ٹرانسکرپٹس، عارضی اسناد، ڈگری سرٹیفکیٹس اور دیگر تعلیمی دستاویزات کو غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے اور انہیں یونیورسٹی کی قانونی طور پر جاری کردہ دستاویزات تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

معاملے میں اب یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ امیدواروں کے ریکارڈ کو غیر قانونی قرار دینے کے ساتھ ساتھ مبینہ جعل سازی میں سہولت کاری کرنے والے اہلکاروں کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں