ابراہیم صالح محمد
دنیا کا ایک قدیم اور ابدی اصول ہے کہ جب جنگل کے ہاتھی آپس میں لڑتے ہیں، تو سب سے زیادہ نقصان اس گھاس کا ہوتا ہے جو ان کے پیروں تلے کچلی جاتی ہے۔ لیکن اکیسویں صدی کی جدید کارپوریٹ دنیا میں اس مقولے کا ایک نیا رخ سامنے آیا ہے۔ اب جب کارپوریٹ ہاتھی لڑتے ہیں، تو صرف گھاس ہی نہیں کچلی جاتی، بلکہ بادشاہوں کے تخت بھی ہل جاتے ہیں اور حکومتیں بھی تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتی ہیں۔
اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سو کالڈ جمہوریت، یعنی بھارت میں، سرمایہ داری کی ایک ایسی ہی ہولناک جنگ چھڑ چکی ہے جس کے ایک طرف دنیا کا امیر ترین اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کا چہیتا، ایلون مسک کھڑا ہے، اور دوسری طرف بھارت کے سیاہ و سفید کا مالک، مکیش امبانی۔ لیکن اس لڑائی کی سب سے دلچسپ اور خطرناک کڑی وہ شخص ہے جسے دنیا بھارت کا وزیراعظم کہتی ہے، یعنی نریندر مودی۔ ناقدین اور سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مودی اس کارپوریٹ شطرنج کی بساط پر محض ایک ’’مہرہ‘‘ بن چکے ہیں، اور کارپوریٹ طاقتوں کا یہ تصادم اب مودی سرکار کے سیاسی وجود اور ساکھ کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
سرمایہ داری (Capitalism) کا تاریخ میں ہمیشہ سے ایک ہی اصول رہا ہے:
’’منافع، بالادستی اور اجارہ داری۔‘‘
تاریخ گواہ ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی سے لے کر لاطینی امریکہ میں یونائیٹڈ فروٹ کمپنی تک، کارپوریشنز نے ہمیشہ اپنے کاروباری مفادات کے لیے ملکوں کے جغرافیے بدلے، جنگیں کروائیں اور منتخب حکومتوں کے تختے الٹ دیے۔ جب کارپوریٹ مفادات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، تو وہ جمہوریت، اخلاقیات اور بین الاقوامی قوانین کو اپنے بوٹوں تلے روندنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاتیں۔ آج بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسی تاریخی تسلسل کا ایک جدید، ڈیجیٹل اور زیادہ خطرناک ورژن ہے۔
اسٹارلنک تنازع: امبانی اور مسک آمنے سامنے
اس پوری جنگ کا نقطۂ آغاز ’’اسٹارلنک‘‘ (Starlink) کا تنازع ہے۔ ایک جانب ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) کا یہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک دنیا کے 165 سے زائد ممالک میں کامیابی سے کام کر رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی بغیر کسی زمینی تار، ٹاور یا روایتی بنیادی ڈھانچے کے، براہِ راست آسمان سے تیز ترین انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔
دوسری جانب مکیش امبانی ہیں، جنہوں نے بھارت میں ریلائنس جیو (Jio) کے ذریعے کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کرکے ٹیلی کام سیکٹر پر اپنی اجارہ داری قائم کی ہے۔ وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر اسٹارلنک کو بھارت میں کھلی چھوٹ مل گئی، تو ان کی کمپنی جیو کا زوال یقینی ہے۔
امبانی کا مطالبہ ہے کہ سیٹلائٹ اسپیکٹرم کی نیلامی ہونی چاہیے، تاکہ وہ اپنی دولت کے بل بوتے پر بولی اتنی مہنگی کردیں کہ مسک کے لیے مقابلہ ناممکن ہوجائے۔ دوسری طرف، مسک کا مؤقف ہے کہ عالمی قوانین کے مطابق سیٹلائٹ اسپیکٹرم کو نیلام نہیں بلکہ انتظامی طور پر الاٹ کیا جانا چاہیے، تاکہ صارفین کو سستا انٹرنیٹ ملے۔
یہاں سے یہ تجارتی جنگ صرف دو تاجروں کے درمیان نہیں رہی، بلکہ یہ جیوپولیٹکس اور حکومتوں کو کنٹرول کرنے کے کھیل میں تبدیل ہوگئی۔ مودی سرکار، جس پر طویل عرصے سے یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ ’’امبانی اور اڈانی‘‘ کے اشاروں پر چلتی ہے، اب ایک ایسی دلدل میں پھنس چکی ہے جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
اگر مودی امبانی کو خوش کرنے کے لیے اسٹارلنک کا راستہ روکتے ہیں، تو وہ براہِ راست امریکی مفادات اور عالمی ٹیکنالوجی لابی سے ٹکر لیتے ہیں۔ اور اگر وہ مسک کو اجازت دیتے ہیں، تو ان کے سب سے بڑے مالیاتی نگہبان، امبانی، کی سلطنت ریت کی دیوار ثابت ہوسکتی ہے۔
اقتصادی دباؤ: بھارت کی آئی ٹی صنعت پر خطرات
کارپوریٹ طاقتیں جب کسی حکومت کو جھکانے کا فیصلہ کرتی ہیں، تو ان کے پاس وار کرنے کے متعدد ہتھیار ہوتے ہیں۔ پہلا ہتھیار ’’اقتصادی گلا گھونٹنا‘‘ ہے۔ امریکی حکومت کی طرف سے حال ہی میں بھارت کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنیوں، جن میں انفوسس (Infosys) اور ٹاٹا گروپ کی ٹی سی ایس (TCS) شامل ہیں، کے لیے گرین کارڈ لیبر سرٹیفیکیشن، یعنی PERM (Permanent Labor Certification) پروگرام کو معطل کرنا اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور محکمہ محنت نے ان کمپنیوں کو ’’ویزہ ملز‘‘ قرار دے کر ان کے نئے اور زیرِ التوا کیسز پر روک لگا دی ہے۔
یاد رہے کہ یہ دونوں آئی ٹی کمپنیاں بھارت کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور امریکی کارپوریشنز کو سب سے زیادہ آئی ٹی پروفیشنلز فراہم کرتی ہیں۔ اس وقت امریکہ میں تقریباً 6,00,000 سے 7,00,000 بھارتی سافٹ ویئر ملازمین برسرِ روزگار ہیں، جن کا مستقبل اب داؤ پر لگ چکا ہے۔
امریکہ نے یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ اگر مودی سرکار نے امریکی کارپوریٹ مفادات، یعنی مسک کے اسٹارلنک، کا راستہ روکا، تو وہ بھارت کی معاشی شہ رگ کو دبا سکتے ہیں۔
راہول گاندھی اور اپوزیشن کا مؤقف
یہیں سے بھارتی سیاست کا وہ رخ سامنے آتا ہے جسے اپوزیشن طویل عرصے سے عوام کے سامنے پیش کر رہی ہے۔ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی اور پوری اپوزیشن اس صورتحال پر مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔
راہول گاندھی نے ایلون مسک کے حالیہ ٹویٹس پر طنز کرتے ہوئے مودی سرکار پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے بھارت کی معیشت کو چند مخصوص سرمایہ داروں کا غلام بنا دیا ہے۔ راہول گاندھی نے ماضی میں بھی امریکی ویزا پابندیوں کے اثرات پر آواز اٹھائی تھی کہ اس سے لاکھوں بھارتی نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہوجائے گا۔
اپوزیشن کا یہ بیانیہ اب عوام میں جڑ پکڑ رہا ہے کہ نریندر مودی بھارت کے وزیراعظم کے طور پر نہیں، بلکہ امبانی اور اڈانی کے ’’فرنٹ مین‘‘ کے طور پر کام کر رہے ہیں، اور ان کی اسی کرونی کیپٹلزم (Crony Capitalism) کی پالیسی کی وجہ سے آج لاکھوں بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز امریکہ میں ذلیل و خوار ہورہے ہیں۔
سوشل میڈیا اور الگورتھم: اقتدار کے لیے نیا خطرہ؟
دوسرا اور سب سے ہولناک ہتھیار ’’سوشل میڈیا اور الگورتھم کا استعمال‘‘ ہے۔ ایلون مسک صرف ایک خلائی سائنسدان نہیں ہیں، وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ (ٹویٹر) کے مالک بھی ہیں۔
آج کے دور میں حکومتیں گرانے کے لیے ٹینکوں اور فوجوں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ سوشل میڈیا کے الگورتھم ہی کافی ہوتے ہیں۔ جب کارپوریٹ طاقتیں کسی لیڈر کو نشانہ بناتی ہیں، تو الگورتھم راتوں رات تبدیل کیے جاسکتے ہیں۔ صارف کی اسکرین پر صرف وہی مواد نظر آتا ہے جو موجودہ حکومت کے خلاف غصہ، مایوسی اور نفرت پیدا کرے۔
مودی سرکار کے خلاف ’’رجیم چینج‘‘ (حکومت کی تبدیلی) کا آپریشن کسی بھی وقت اس ڈیجیٹل ہتھیار کے ذریعے متحرک کیا جاسکتا ہے، جہاں ہر عام بھارتی کو یہ یقین دلا دیا جائے گا کہ ان کے تمام مسائل، معاشی بدحالی اور بین الاقوامی سطح پر بھارت کی سبکی کے ذمہ دار صرف اور صرف نریندر مودی ہیں۔
مسک کا حال ہی میں سوشل میڈیا پر یہ کھلم کھلا طنز کرنا کہ ’’کیا امبانی بھارت کے اصل باس ہیں؟‘‘ محض ایک جملہ نہیں تھا، بلکہ یہ مودی کے اس قوم پرستانہ اور مضبوط لیڈر والے امیج پر ایک کاری ضرب تھی، جو انہوں نے سالوں کی محنت اور میڈیا ہائپ سے بنایا تھا۔
جب دنیا کا امیر ترین شخص یہ کہتا ہے کہ بھارت کا وزیراعظم آزاد نہیں، بلکہ ایک مقامی کارپوریٹ جائنٹ کا مہرہ ہے، تو عالمی برادری میں مودی کی سیاسی ساکھ مٹی میں مل جاتی ہے، اور اپوزیشن کے اس الزام کو جلا ملتی ہے کہ یہ سرکار صرف ’’ہم دو، ہمارے دو‘‘ کے فارمولے پر چل رہی ہے۔
سرمایہ داری کی سیاست: وفاداری صرف منافع سے
سرمایہ داری کا یہ جبر ہے کہ یہ کبھی کسی کی سگی نہیں ہوتی۔ مودی نے بارہ سال تک جن کارپوریٹ گھرانوں کو پالا، آج وہی ان کے گلے کا طوق بن چکے ہیں۔
کارپوریشنز کسی ملک کے عوام، اس کے آئین یا اس کی جمہوریت سے وفادار نہیں ہوتیں؛ ان کی وفاداری صرف ان کی بیلنس شیٹ اور منافع سے ہوتی ہے۔ جب تک مودی امبانی کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں، وہ ان کے لیے سودمند ہیں، لیکن جس دن امبانی کو لگا کہ مودی کی وجہ سے ان کا عالمی کاروبار متاثر ہورہا ہے یا امریکی پابندیاں ریلائنس کو نقصان پہنچا رہی ہیں، وہ خود مودی سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔
اس رسا کشی کا انجام کیا ہوگا؟
یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جب عالمی کارپوریٹ طاقتیں اور دیسی سرمایہ دار آپس میں ٹکراتے ہیں، تو نقصان ہمیشہ اس ملک کا اور اس کے مہرہ بننے والے حکمرانوں کا ہوتا ہے۔
مودی نے بھارت کو جس کارپوریٹ گٹھ جوڑ کی راہ پر ڈالا تھا، اب وہ اسی جال میں خود قید ہوچکے ہیں۔ اگر وہ امبانی کو بچاتے ہیں، تو امریکہ ان کی معیشت اور لاکھوں بھارتی ورکرز کے مستقبل کو نشانہ بنائے گا، اور اگر وہ مسک کے سامنے جھکتے ہیں، تو ان کا داخلی سیاسی و مالیاتی نظام بکھر جائے گا۔
ہاتھیوں کی اس جنگ میں مودی کا تختہ الٹنا اب کوئی بعید از قیاس بات نہیں رہی، کیونکہ سرمایہ داری جب اپنے موڈ میں آتی ہے، تو وہ بڑے بڑے سورماؤں کو بھی تاریخ کے کوڑے دان کی نذر کردیتی ہے۔