عمران خان کے آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی، سپریم کورٹ کا علاج کرانے کا حکم

اسلام آبا(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی دائیں آنکھ کے طبی معائنے کیلئے میڈیکل ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ انہیں اپنے بچوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔ عدالت نے دونوں اقدامات 16 فروری (پیر) سے قبل مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ احکامات چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے جاری کیے، جس میں جسٹس شاہد بلال حسن بھی شامل تھے۔ بینچ اڈیالہ جیل میں عمران خان کی رہائش اور سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا تھا۔

عدالت کے ریمارکس

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ انتہائی اہم ہے اور اس میں عدالتی مداخلت ضروری تھی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت حکومت کا مؤقف جاننا چاہتی ہے۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ قیدی کو طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اگر قیدی مطمئن نہ ہو تو ریاست مناسب اقدامات کرے گی۔

چیف جسٹس نے عمران خان کی بچوں سے ٹیلی فون پر گفتگو کے معاملے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت حکومت پر اعتماد کر رہی ہے۔

تاہم عدالت نے عمران خان کی آنکھ کے معائنے کے دوران اہل خانہ کی موجودگی کی درخواست مسترد کر دی۔ کتابوں کی فراہمی سے متعلق درخواست پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آنکھوں کے ڈاکٹروں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

وکیل کی رپورٹ میں کیا کہا گیا؟

عدالت نے عمران خان کے وکیل اور امیکس کیوری ایڈووکیٹ سلمان صفدر اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس کا جائزہ لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں رپورٹس میں بیشتر نکات یکساں ہیں اور سہولیات کے حوالے سے حالات مناسب قرار دیے گئے ہیں۔

سلمان صفدر نے اپنی سات صفحات پر مشتمل رپورٹ میں عمران خان کے حوالے سے کہا کہ علاج (بشمول انجکشن) کے باوجود ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ اکتوبر 2025 تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی 6×6 نارمل تھی، تاہم بعد ازاں دھندلاہٹ اور نظر کی کمزوری کی شکایت شروع ہوئی جس پر بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بعد ازاں دائیں آنکھ کی بینائی اچانک مکمل طور پر متاثر ہوئی، جس پر پمز اسپتال کے ماہر امراض چشم ڈاکٹر محمد عارف نے معائنہ کیا۔ عمران خان کے مطابق انہیں خون جمنے (بلڈ کلاٹ) کی تشخیص ہوئی جس سے شدید نقصان پہنچا۔

سلمان صفدر نے رپورٹ میں لکھا کہ ملاقات کے دوران عمران خان واضح طور پر پریشان دکھائی دے رہے تھے، ان کی آنکھوں میں پانی تھا اور وہ بار بار ٹشو استعمال کر رہے تھے۔

طبی رپورٹ میں کیا کہا گیا؟

6 فروری کی ایک طبی رپورٹ، جس پر پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کے دستخط ہیں، بھی عدالت میں پیش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان نے دائیں آنکھ میں بینائی کم ہونے کی شکایت کی تھی۔

طبی معائنے میں سلٹ لیمپ، فنڈوسکوپی، آنکھ کے دباؤ کی پیمائش، لیبارٹری ٹیسٹ اور ریٹینا کا او سی ٹی ٹیسٹ شامل تھا۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان کو “رائٹ سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن” کی تشخیص ہوئی اور اسپتال میں فالو اپ علاج تجویز کیا گیا۔

ڈاکٹر سکندر کے مطابق 24 جنوری کی شب عمران خان کو پمز لایا گیا جہاں انہیں اینٹی وی جی ای ایف انٹراویٹریئل انجکشن لگایا گیا۔ ان کے بقول مریض کی رضامندی سے تقریباً 20 منٹ میں یہ عمل مکمل کیا گیا۔

تاہم سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ فراہم کردہ طبی نوٹ میں مکمل تفصیلات موجود نہیں اور نہ ہی اس ماہر امراض چشم کا نام درج ہے جس نے علاج کیا۔

ذاتی معالجین تک رسائی کا معاملہ

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو پہلے رسائی حاصل تھی، تاہم آنکھ کی حالت بگڑنے کے باوجود متعلقہ عرصے میں انہیں رسائی نہیں دی گئی۔ عمران خان نے باقاعدہ خون کے ٹیسٹ نہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔

دوسری جانب، عمران خان کے صاحبزادے قاسم نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں اور ان کے بھائی سلیمان کو والد سے ملاقات کیلئے ویزا نہیں دیا جا رہا، جبکہ ان کی صحت بگڑ رہی ہے۔

خاندانی ملاقاتوں کا معاملہ

چیف جسٹس نے قرار دیا کہ اہل خانہ سے ملاقات کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے، اس لیے متعلقہ فورم کو ہی اس پر فیصلہ کرنا چاہیے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں