کراچی(انڈس ٹربیون) سندھ کے گورنر کامران ٹسوری کے صوبے کی تقسیم سے متعلق متنازع بیان پر صوبے کی سیاسی فضا گرم ہوگئی ہے۔ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سمیت مختلف قوم پرست اور سیاسی جماعتوں نے گورنر کے بیانات کو ’’سندھ اور وفاق کے خلاف سازش‘‘ قرار دیتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بعض جماعتوں نے گورنر ہاؤس کے باہر احتجاجی دھرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کا ردعمل
سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے گورنر کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر ہاؤس میں ہونے والی سرگرمیاں نہ صرف سندھ بلکہ ملک کے لیے بھی خطرناک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اپنے وعدے کے مطابق یا تو مسلم لیگ (ن) کا گورنر تعینات کریں یا پیپلز پارٹی کا۔
سعید غنی نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں خونریزی کا سبب بننے والی لسانی قوتیں دوبارہ سرگرم ہو رہی ہیں اور گورنر ہاؤس نفرت انگیز تقاریر کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
عوامی راج تحریک کا دھرنے کا اعلان
عوامی راج تحریک نے بھی گورنر کے خلاف احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ تحریک کے چیئرمین ایڈوکیٹ خلیل شاہ نے گورنر کے حالیہ بیانات کو ’’سندھ دشمن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام اپنے صوبے کے وقار پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔
ان کے مطابق جلد گورنر ہاؤس کراچی کے سامنے دھرنا دیا جائے گا، جس میں کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گورنر اپنے بیانات پر معافی مانگیں یا عہدہ چھوڑ دیں۔ تحریک کی جانب سے کارکنان کو پرامن احتجاج کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
قوم پرست جماعتوں کی تنقید
قومی عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو نے ملیر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گورنر ہاؤس کو ’’ملک دشمن سازشوں کا حصہ‘‘ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے خلاف سازش دراصل ملک کے خلاف سازش ہے اور صدر و وزیر اعظم کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
اسی طرح جیئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین صنعاں قریشی نے بھی گورنر کے بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ملیر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس سندھ دشمن سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے اردو بولنے والے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سندھ کے خلاف کسی بھی مبینہ سازش کا حصہ نہ بنیں اور صوبے کے مفاد میں ساتھ دیں۔
تاحال گورنر ہاؤس کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر معاملہ مزید بڑھا تو صوبے میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔