حیدرآباد (انڈس ٹربیون) سندھی زبان کی ڈیجیٹل ترقی اور جدید لسانی تحقیق کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ماہرِ لسانیات امر فیاض بُرڑو نے مالی مشکلات کے باعث اپنے ادارے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر براہِ راست خطاب کرتے ہوئے اپنے فیصلے کا اظہار کیا، جہاں وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہو گئے۔ امر فیاض بُرڑو کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ سات ماہ سے ذاتی وسائل سے ادارے کے اخراجات برداشت کر رہے تھے، تاہم اب مزید یہ بوجھ اٹھانا ممکن نہیں رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ شدید مالی قلت کے باوجود انہوں نے ادارے کو بند ہونے سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی اور اپنی جیب سے ملازمین کی تنخواہیں بھی ادا کرتے رہے، مگر حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے باعث اس ادارے کو چلانا اب ناممکن ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ عبدالماجد بھَرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ، جو سندھ کے محکمہ ثقافت کے تحت کام کر رہا ہے، سندھی زبان کی ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت اور لسانی انجینئرنگ کے میدان میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ امر فیاض بُرڑو کی قیادت میں اس ادارے نے مختصر عرصے میں عالمی سطح پر بھی اپنی پہچان بنائی اور ہارورڈ یونیورسٹی، گوگل اور اوپن اے آئی جیسے اداروں تک سندھی زبان کی نمائندگی پہنچائی۔
اپنے بیان میں امر فیاض بُرڑو نے کہا کہ انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن کوشش کی، لیکن اب ذاتی وسائل پر ادارہ چلانا ممکن نہیں رہا، اس لیے انہوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب اپنے خاندان، خاص طور پر بچوں کو وقت دینا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ مسلسل انہیں نظر انداز کرتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر تھک چکے ہیں اور اب مزید یہ ذمہ داری نبھانا ان کے لیے ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ کسی پروگرام میں نظر نہیں آئیں گے اور اپنی زندگی اپنے بچوں کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں۔
امر فیاض بُرڑو نے انکشاف کیا کہ حالیہ دنوں میں انہیں دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ ان کی گاڑی روک کر انہیں اور ان کے بچوں کو ڈرایا دھمکایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک عام انسان ہیں اور ان کی بھی بنیادی ضروریات ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں اچھا کام کرنے والوں کو نہ صرف نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ ان کے خلاف سازشیں اور جھوٹے مقدمات بھی بنائے جاتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے عوام کی محبت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب سکون کے ساتھ اپنے خاندان کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
امر فیاض بُرڑو سندھی زبان اور کمپیوٹر لسانیات کے شعبے میں ایک نمایاں نام ہیں، جو لغت سازی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے زبانوں پر تحقیق کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ وہ اس وقت سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات و آرکائیوز میں بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وزیر ثقافت کا نوٹس، تحقیقات کا حکم دے دیا
ممتاز ماہرِ لسانیات امر فیاض بُرڑو کے استعفے کے اعلان کے بعد صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نے ڈی آئی جی حیدرآباد سے رابطہ کر کے امر فیاض بُرڑو کو دی جانے والی دھمکیوں اور ہراسانی کے واقعات کی تحقیقات اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائے۔
سید ذوالفقار علی شاہ کا کہنا تھا کہ امر فیاض بُرڑو سندھ کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امر فیاض کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں اور حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ صوبائی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ امر فیاض بُرڑو کے تمام خدشات دور کیے جائیں گے اور انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ “امر فیاض بے فکر رہیں، انہیں دھمکیاں دینے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، میری ہمدردیاں ان اور ان کے خاندان کے ساتھ ہیں، ان کی فیملی میری فیملی ہے۔”
سندھی ادیبوں کو تشویش، ادارے کی معاونت اور امر فیاض کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ
ادھر امر فیاض بُرڑو کے استعفے کے اعلان پر سندھ بھر کے ادیبوں، دانشوروں اور علمی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سندھ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسے ماہرین کو نظر انداز کیا گیا تو سندھی زبان کی ڈیجیٹل ترقی کا عمل متاثر ہوگا۔
ادبی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ماجد بھرگڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کو فوری طور پر تمام ضروری مالی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ ادارہ اپنا کام جاری رکھ سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے امر فیاض بُرڑو کو دھمکیاں دینے والے عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں و ان کے خاندان کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔