“ولایتِ فقیہ” کیا یہ نظام بدلتی دنیا میں زندہ رہ پائے گا ؟

ڈاکٹر احمد علی میمن
اکیسویں صدی کی دنیا اب محض نظریاتی نعروں، انقلابی خطابات یا جذباتی بیانیوں کی دنیا نہیں رہی۔ یہ دور نتائج، کارکردگی، مؤثر گورننس اور عملی حکمتِ عملی کا تقاضا کرتا ہے۔

آج ریاستوں کی طاقت صرف عسکری قوت یا نظریاتی سختی سے نہیں ناپی جاتی بلکہ جیوپولیٹیکل اثر و رسوخ، معاشی استحکام، عالمی تجارت میں شمولیت، منڈیوں تک رسائی، ٹیکنالوجی اور میڈیا کے ذریعے رائے عامہ کی تشکیل اس کے بنیادی پیمانے بن چکے ہیں۔ ایسے عالمی تناظر میں یہ سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ کیا ولایتِ فقیہ کا نظریہ جدید دنیا میں اپنا مقام برقرار رکھ سکتا ہے؟

یہ سوال محض فقہی یا مذہبی نوعیت کا نہیں رہا، بلکہ یہ خالصتاً سیاسی، معاشی، سماجی اور فکری مسئلہ بن چکا ہے۔

یہ تصور ایک مخصوص تاریخی پس منظر میں سامنے آیا۔ بیسویں صدی کے وسط میں مسلم دنیا سیاسی زوال، مغربی غلبے اور داخلی آمریتوں کا شکار تھی۔ ایسے ماحول میں امام روح اللہ خمینی نے یہ مؤقف پیش کیا کہ اسلام محض عبادات یا انفرادی اخلاقیات تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو روحانیت، سماجی انصاف، معیشت، قانون اور سیاست کو باہم جوڑتا ہے۔

ان کے نزدیک مذہب اور سیاست کی علیحدگی دراصل اخلاقیات کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے مترادف تھی، اور یہ تصور مغربی فکری غلبے کا نتیجہ تھا۔

اسی فکر کا عملی اظہار 1979ء کے ایرانی انقلاب کی صورت میں ہوا، جس نے نہ صرف ایران کی ریاستی ساخت کو تبدیل کیا بلکہ خطے اور عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔

انقلاب کے بعد ولایتِ فقیہ کو ایران کے آئینی نظام میں شامل کیا گیا اور رہبرِ اعلیٰ کا منصب قائم ہوا۔ اس نظام کے حامیوں کے مطابق، یہ ماڈل سیاسی اقتدار کو دینی و اخلاقی حدود میں مقید رکھتا ہے اور ریاست کو اسلامی اقدار سے ہم آہنگ کرتا ہے۔

تاہم آج کا عالمی منظرنامہ 1979ء سے یکسر مختلف ہے۔ جدید جیوپولیٹکس میں مستقل دشمن یا مستقل دوست کا تصور کمزور ہو چکا ہے۔ ریاستیں اب مفادات، اتحاد، معاشی انحصار اور سفارتی توازن کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔

ایسے ماحول میں ایک ایسی ریاست جو مستقل مزاحمتی بیانیے پر قائم ہو، وہ اپنی خودمختاری تو برقرار رکھ سکتی ہے، مگر اس کی قیمت اکثر سفارتی تنہائی، اقتصادی دباؤ اور علاقائی کشیدگی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔

یہاں اصل سوال مزاحمت کی اخلاقی حیثیت کا نہیں بلکہ اس کی پائیداری کا ہے۔کیا مستقل مزاحمت جدید ریاست کے لیے ایک مؤثر اور دیرپا حکمتِ عملی بن سکتی ہے؟

یہ سوال معاشی میدان میں اور بھی زیادہ شدت اختیار کر جاتا ہے۔ جدید دنیا میں کوئی بھی ریاست عالمی تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور منڈیوں سے الگ ہو کر ترقی نہیں کر سکتی۔

اگرچہ ولایتِ فقیہ کے تحت قائم نظام نے خود انحصاری اور اخلاقی معیشت کا بیانیہ پیش کیا، مگر عملی سطح پر مہنگائی، کرنسی کے بحران، بے روزگاری اور معاشی غیر یقینی نے ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کو بڑھایا ہے۔

یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ مسئلہ اسلام یا دینی اصول نہیں، بلکہ گورننس، شفافیت، پالیسی کے تسلسل اور معاشی اعتماد کا ہے۔

اگر ریاست قانون کی بالادستی، ادارہ جاتی استحکام اور کاروباری تحفظ کو یقینی بنائے تو مذہبی نظام بھی عالمی معیشت کا حصہ بن سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، نظریہ خود معاشی حقائق کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے۔

اس پورے تناظر میں سب سے اہم اور نازک پہلو نوجوان نسل کا ہے۔ آج کا نوجوان عالمی دنیا سے جڑا ہوا، باخبر اور تقابلی شعور رکھتا ہے۔

اس کی ترجیحات میں نظریاتی نعروں سے زیادہ تعلیم، روزگار، سماجی ترقی، عزتِ نفس اور اظہارِ رائے کی آزادی شامل ہے۔ جدید ریاستیں وہی کامیاب ہوتی ہیں جو نوجوانوں کو محض نظم و ضبط کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سرمایہ سمجھتی ہیں۔

ولایتِ فقیہ کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ آیا یہ نظام نوجوانوں کی معاشی، سماجی اور فکری امنگوں کو اپنے نظریاتی دائرے میں جگہ دے سکتا ہے یا نہیں۔

اسی طرح میڈیا کا محاذ بھی بنیادی تبدیلی سے گزر چکا ہے۔ ریاستی کنٹرول کے دور کا روایتی میڈیا اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سوشل نیٹ ورکس اور عالمی اطلاعاتی بہاؤ کے سامنے غیر مؤثر ہوتا جا رہا ہے۔

آج طاقت کا اصل سرچشمہ بیانیہ ہے۔ وہ ریاستیں زیادہ مستحکم رہتی ہیں جو اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے مکالمے میں بدلنا جانتی ہیں۔

اگر تنقید کو غداری اور اختلاف کو بغاوت سمجھا جائے تو ریاست مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہوتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نہ خالص نظریاتی ریاستیں ہمیشہ قائم رہتی ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر غیر اقداری نظام دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بقا کا راستہ اعتدال، ارتقا اور اصلاح سے ہو کر گزرتا ہے۔

اگر ولایتِ فقیہ اصولوں میں مضبوط، اقدار میں واضح، مگر پالیسی میں لچکدار، گورننس میں جدید اور معاشی حکمتِ عملی میں حقیقت پسند ہو، تو یہ نظام بدلتی دنیا میں اپنا مقام برقرار رکھ سکتا ہے۔

بصورتِ دیگر، تاریخ ایسے نظاموں کے ساتھ کوئی جذباتی رعایت نہیں برتتی، وہ خاموشی سے، مگر فیصلہ کن انداز میں اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ ولایتِ فقیہ درست ہے یا غلط، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ
کیا یہ نظام بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ مکالمہ کرنے، خود کو بہتر بنانے اور نئی حقیقتوں کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو یہ ماڈل ایک منفرد، اخلاقی اور خودمختار ریاستی تجربے کے طور پر زندہ رہ سکتا ہے۔
اگر نہیں، تو وقت خود اپنا فیصلہ سنا دے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں