ڈاکٹر آکاش قتل مقدمہ: جیت صرف المیے کی ہوئی

جامی چانڈیو
پورے ایک سال کی مسلسل عدالتی حاضریوں کے بعد آج وہ آخری تاریخ تھی جس دن جج کو فیصلہ سنانا تھا۔ عام دنوں میں تو ہم چند دوست ہی پیشیوں پر موجود ہوتے تھے، مگر آج دوستوں اور وکلا کی خاصی تعداد عدالت کے احاطے میں جمع تھی۔ کچھ لوگ حسبِ معمول خاموش اور دل گرفتہ تھے، اور کچھ اس امید میں مطمئن نظر آتے تھے کہ قاتل کو سزا ملے گی اور آکاش کے ساتھ انصاف ہوگا۔

میری کیفیت مگر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مختلف تھی—ایسی کہ جسے لفظوں میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ میری کیفیت اتنی سادہ نہ تھی کہ میں صرف آکاش کو اپنا اور اس مقدمے میں باقی سب کو پرایا سمجھ لیتا۔ یہ میرے لیے اپنے وجود اور گھر کا المیہ تھا، جہاں ایک ہی خاندان کے افراد مقتول بھی تھے، قاتل بھی، اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے بھی۔ بعض کیفیتیں نہایت پیچیدہ اور اذیت ناک ہوتی ہیں، اور میں اسی اذیت سے گزر رہا تھا۔

شاہ لطیف سائیں نے سُر سامونڈی کی ایک وائی میں عجیب بات کہی ہے:

“دیمک جیسے دکھ، چوٹی تک چڑھ آئے!”
یعنی دکھ دیمک کی طرح وجود کی چوٹی تک پہنچ گئے ہوں۔ ظاہر ہے ایسی حالت میں وجود کی عمارت ڈھنے لگتی ہے۔

اس گھر میں میں نے ہمیشہ خوشیاں دیکھی تھیں—دوستوں کی دعوتیں، آکاش کی بے مثال مہمان نوازیاں، اور بھابھی ادی حَلو کی محبت بھری شفقت۔ یہ گھر لاڑ کی ثقافت کا ایک جیتا جاگتا نمونہ تھا۔ یہاں انقلابی سیاست، شاعری، ادب، راگ اور لطیفیات کی روح سانس لیتی تھی۔ آج وہی گھر عدالت کے کمرے میں ایک المناک مقدمے کی صورت موجود تھا۔ ایسے منظر پر دل نمک کی طرح پگھل کیوں نہ جائے؟

شروع دن سے ہی میرے دل میں یہ بے چین اور افسردہ احساس موجود تھا کہ آکاش کے ساتھ انصاف کا تصور ہی بے معنی ہے۔ اس کے ساتھ انصاف کم از کم اسی صورت میں ممکن تھا اگر وہ اس دنیا میں واپس آ سکتا—اور ظاہر ہے یہ ممکن نہ تھا۔ جب یہ ممکن نہیں تو انصاف کیسا؟ اس سے تو زندگی چھینی گئی تھی، اور گئی زندگی کبھی واپس نہیں آتی۔ قاتل کو سزا دینے سے مقتول کو انصاف کیسے مل سکتا ہے؟ آکاش کے ساتھ میری اٹھتیس برس کی رفاقت تھی، اور میں نے زندگی سے اس قدر محبت کرنے والا انسان بہت کم دیکھا ہے۔ وہ لمحہ لمحہ جینا چاہتا تھا۔ اس کے لیے زندگی محض سانس لینے کا جبری عمل نہ تھی۔ وہ شاہ لطیف کا عاشق تھا، اور اس کے لیے زندگی کا فلسفہ رہبر کی یہ سطر تھی:

“کیف کے بغیر کوئی، دنیا میں کوئی نہ جئے!”
وہ سفر، بارش، دریاؤں، جھیلوں، بیٹھکوں، راگ، سُر، ذائقوں، حسن، شاعری، ادب، فن، رقص، دانش اور انسانی اقدار سے بے پناہ محبت کرنے والا شاعر اور انسان تھا۔ اس کے ایسے دردناک قتل کے بعد کیسا انصاف ممکن تھا؟ قاتل کی سزا مقتول کے ساتھ انصاف نہیں ہوتی، وہ محض قاتل کا انجام ہوتی ہے۔ڈاکٹر آکاش کی موت ہمیشہ ایک روح کو جھنجھوڑ دینے والے المیے کی علامت رہے گی۔

پانچ گھنٹے کے انتظار کے بعد جب عدالت نے قاتل کو سزائے موت سنائی تو علم الدین سمیت کچھ دوست رو رہے تھے اور کچھ ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے۔ ان میں کوئی بھی غلط نہ تھا—سب آکاش سے محبت کرنے والے تھے۔ علم الدین اگرچہ ہماری دوستی کے دائرے میں بہت بعد میں آیا، مگر اس نے آکاش کے ساتھ سگے بھائی کی طرح نبھایا—اس کی بیماریوں میں بھی اور اس کے بعد بھی۔ ایسے دوست زندگی میں شاذ ہی نصیب ہوتے ہیں۔

میں نے وہاں کسی کو مبارک باد نہیں دی اور نہ وصول کی، میرے لیے آکاش کے قاتل بیٹے وِشو کا انجام بھی ایک المیے سے کم نہ تھا۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب آکاش، وِشو کی پیدائش کی خوش خبری دینے حسن درس اور مجھے حیدرآباد آیا تھا۔ ہم میرے گھر بیٹھے تھے۔ جب اس نے ہمیں بتایا تو ہم نے ہنسی مذاق شروع کر دیا، کہ محض ایک ہفتہ پہلے ہم بدین میں اس کے ہاں ٹھہر کر آئے تھے اور ادی حَلو نے ہمیں خوب کھلایا پلایا تھا—اور وہ حاملہ نہیں تھی۔ جب ہماری چھیڑ چھاڑ حد سے بڑھ گئی تو آکاش نے حسن سے ہنستے ہوئے کہا تھا:

“ارے، میں نے اسے گود لے لیا ہے!”

وشو کی آمد پر آکاش کے جوش کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے اس کا نام شاہ لطیف کے نام پر رکھا۔ ہم اسے اس نام پر چھیڑتے تو وہ معصومیت سے کہتا کہ وشو بھی اپنے باپ اور دادا کی طرح شاعر بنے گا۔ مگر اس کی قسمت کی تہہ میں ایک قاتل چھپا بیٹھا تھا—یہ کیسا المیہ ہے!

ادی حَلو کو وشو سے ایسی ماں جیسی محبت تھی کہ اس نے آکاش اور بیٹی میرا کو بھی اس کے بعد رکھا۔ آکاش اور ادی جب ہمارے گھر آتے تو وہ ننھا بچہ بھی ساتھ ہوتا۔ ہم نے اسے واقعی سونے کے چمچوں میں پلتے دیکھا۔ پکی عمر میں اولاد ملی تھی، اس لیے لاڈ پیار کی کوئی حد نہ رہی—اور وہیں سے یہ بچہ بگڑنا شروع ہوا۔ محبت اندھی ہوتی ہے؛ اسے بچے کی بگڑتی روش نظر نہ آئی، مگر ہم دوست محسوس کرنے لگے تھے۔ اس کا پہلا اظہار اس کے پڑھائی سے فرار میں ہوا. آکاش اس کی تعلیم کے لیے حیدرآباد منتقل ہوا، بہترین اسکولوں میں داخل کرایا، مگر وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ ہر شے کا ایک وقت ہوتا ہے، اور آکاش کے ہاتھوں سے وہ وقت نکل چکا تھا۔ جو کبھی وہ فخر سے کہتا تھا کہ “دیکھو، وشو بالکل بابا کی صورت ہے”، اب وہ اسی سے بیزار ہونے لگا تھا۔ وشو ہماری بیٹھکوں کا مستقل موضوع بن گیا تھا—جہاں آکاش، میں، ڈاکٹر بچل میمن اور علم الدین موجود ہوتے تھے۔

آج وہی وشو آکاش کے قاتل کی صورت عدالت کے کٹہرے میں کھڑا تھا، اور اسے سزائے موت سنائی جا رہی تھی۔ میرے ذہن میں اس کا پورا ماضی گھوم رہا تھا، اور میں اس انجام پر خوش ہونے کے بجائے اسے بھی ایک المیہ ہی سمجھ رہا تھا۔ ہمیشہ قیمتی کپڑے پہننے والا وشو، ہتھکڑیوں میں بند، اپنے ہی باپ جیسے مہربان انسان کا سفاک قاتل—یہ بھی تو ایک المیہ ہی تھا۔

عدالت کے ہال کے بائیں کونے میں ادی حَلو بیٹھی تھی، حسبِ معمول چہرہ ڈھانپے، سر جھکائے۔ میں حاضریوں میں ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر ملتا تھا۔ غلط طرف کھڑے ہونے سے بہن بھائی کا رشتہ ختم تو نہیں ہو جاتا۔ گھنٹوں عدالت میں بیٹھے مجھے یہ احساس رہا کہ وہ دل میں سوچ رہی ہوگی: “آج ادا جامی کیوں نہیں ملے؟” یہ کیسا المیہ تھا کہ وہ میری بھابھی بھی تھی اور بہن بھی—جس کے ہاتھ کا کھانا میں نے اٹھتیس برس کھایا، جو بدین میں ہمارے لیے بستر بچھاتی تھی، اور بہن کی طرح جان نچھاور کرتی تھی۔

آکاش نے مرنے سے پہلے اسے کہہ دیا تھا کہ اس کے بعد اس کا دیور صرف جامی ہوگا، اور وہ کسی اور کے در پر نہ جائے۔ مگر وقت کی بے رحمی دیکھئے کہ اس دردناک گھڑی میں وہ دل میں مجھے پکار رہی ہوگی، اور میں اس کی کوئی مدد نہ کر سکا۔ وہ اپنی اندھی مامتا میں قاتل بیٹے کے ساتھ کھڑی رہی، اور میں بے بس تھا۔ لطیف سائیں کی سطر کہ دونوں اطراف بھاری ہوں تو کیا کیجیے؟ اس المیے میں یہ کیفیت بار بار اپنی پوری معنویت اور شدت کے ساتھ سامنے آتی رہی۔

آکاش کے قتل کے بعد جب ادی حَلو اپنے قاتل بیٹے کے ساتھ کھڑی ہوئی تو لوگوں نے اسے بے حد طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا، اور یہ سب میرے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ اپنی اندھی محبت کے ہاتھوں مجبور تھی، اور میں اتنا سنگ دل نہیں ہو سکتا تھا کہ ہجوم کے ساتھ میں بھی ان کو مارنے کے لیے پتھر اٹھاتا۔ ہم ادی حلو کے المیے کو اس زاویے سے بھی تو دیکھ سکتے ہیں کہ ایک وفادار بیوی ایک ماں کے ہاتھوں ہار گئی تھی. اس پوری دردناک داستان میں سب سے زیادہ اذیت سہنے والا کردار حقیقت میں وہی ہے۔ آکاش چند گھنٹوں میں درد سے آزاد ہو گیا، وشو اپنا ضمیر پہلے ہی کھو چکا تھا، مگر ادی حَلو—وہ روز جیتی جی مرتی رہی، ایک طرف شوہر کا غم، دوسری طرف قاتل بیٹے کو بچانے کی خود فریبی۔ بعض بڑے انسانی المیوں میں یہ طے کرنا ممکن نہیں رہتا کہ بڑا المیہ مر جانے والے کا ہے یا پیچھے رہ جانے والے کا—جس کے وجود کو وقت کے وحشی پنجے روز نوچتے رہتے ہیں۔

آکاش تو گھریلو ضرورتوں سے آزاد ہو چکا ہے۔ اب اس کی قبر پر دوست آتے جاتے رہیں گے۔ وشو نے اپنا راستہ اور نصیب اپنے ہاتھوں سے برباد کر لیا۔ اگر ہائی کورٹ سے سزا میں کوئی نرمی بھی ملی تو زندگی کا بڑا حصہ عمر قید میں گزرے گا، اور اگر کبھی رہا ہوا بھی تو آکاش کے قاتل کی حیثیت سے سماج کی لعنتوں میں جئے گا۔

ادی حَلو کے لیے تو سب کچھ لٹ گیا۔ بدین—جہاں وہ پیدا ہوئی اور جہاں اس نے زندگی گزاری—اس کے لیے اجنبی ہو گیا۔ رشتہ دار چھوٹ گئے، گھر بکھر گیا۔ آکاش پہلے ہی بدین اور حیدرآباد کے گھر بیچ چکا تھا، حالانکہ میں نے بہت روکا تھا۔ شاید انہی گھروں کا بک جانا اس قتل کا ایک سبب بنا ہو—وشو نے سمجھا ہوگا کہ اس کے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا جا رہا۔

آج ادی حَلو کے پاس اب نہ گھر ہے نہ گھر والے۔ ایڈورڈ سعید نے لکھا تھا کہ جس انسان سے اس کا گھر چھن جائے، اس کے لیے دنیا اجنبی ہو جاتی ہے۔ پناہ گزینوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں، مگر ادی حَلو کو تو وہ حق بھی حاصل نہیں۔ اس کی باقی زندگی دکھ، حسرت، پچھتاوے، مایوسی اور مستقل بیگانگی کے وجودی بحران میں گزرے گی—اور اس کا احساس شاید کسی کو نہیں۔

غلط موقف انسان کی انسانیت کو ختم نہیں کرتا، نہ کرنا چاہیے، مگر یہ حساسیت ہمارے سماج میں ابھی پیدا نہیں ہو سکی۔

اس پوری دردناک کہانی میں ایک المیہ ہماری پیاری اور آکاش کی بیٹی میران کا بھی ہے۔ اس کی پیدائش پر اس کے کانوں میں اذان کے بجائے استاد محمد یوسف نے بھٹائی کے بیت گنگنائے تھے۔ آکاش نے اس کا نام میران بائی کے نام پر رکھا تھا۔ وہ لاڈ پیار میں پلی، ذہین اور سمجھ دار ہے، مگر زندگی نے اسے کس اچانک امتحان میں ڈال دیا! آکاش جیسے شفیق باپ کا قاتل اس کا اکلوتا بھائی، اور ماں قاتل بیٹے کے ساتھ کھڑی ہوی! لوگ کہتے تھے میران پیشیوں پر کیوں نہیں آتی؟ میں کہتا تھا—اس کے المیے کو سمجھو۔ اگر وہ عدالت میں ماں کے ساتھ بیٹھتی تو لوگ کہتے وہ بھی ماں کے ساتھ مل گئی، اور اگر نہ بیٹھتی تو اس اذیت کو ہر کوئی محسوس نہیں کر سکتا۔ مگر وہ ثابت قدمی سے آکاش کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آخر تک رہے گی—مجھے اس پر یقین ہے۔

آج قاتل کو سزا سنائے جانے کے باوجود میرا دل بے چین اور بوجھل ہے۔ میں اس سزا کو دوسرے المیوں سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتا۔ مجھے اس کہانی کا ہر پہلو دردناک لگتا ہے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس المیے میں ہارا سب نے ہے، اور جیت صرف المیے کی ہوئی ہے۔ اس کہانی کا ہر کردار اپنے اپنے دکھ کے کنارے پر کھڑا ہے۔

اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوگا کہ میرے دلبر دوست آکاش کا اس دنیا میں اب کوئی گھر نہیں رہا—اس کی قبر کے سوا کوئی جگہ نہیں جہاں اس کے نام کی تختی لگائی جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں