اسلام آباد — قومی اسمبلی نے پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی بل 2025 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، جس کے تحت ملک بھر میں زمینی بندرگاہوں (Land Ports) کی ملکیت، نگرانی، تعمیرات اور تجارتی سرگرمیوں کا انتظام اتھارٹی کے سپرد ہو گا۔
بل کی منظوری سے قبل قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی گئی، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر کی جانب سے پیش کی گئی 19 ترامیم شامل تھیں، جو تمام متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں۔
گورننس کونسل کا قیام
قانون کے تحت ایک گورننس کونسل تشکیل دی جائے گی، جس کی صدارت متعلقہ وفاقی وزیر کریں گے۔ کونسل میں سیکریٹریز برائے تجارت، مواصلات، دفاع، ریونیو، منصوبہ بندی اور فوڈ سکیورٹی کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو، ممبر کسٹمز آپریشن، صدر چیمبر آف کامرس اور قانونی و معاشی ماہرین شامل ہوں گے۔ کونسل سال میں کم از کم دو اجلاس منعقد کرے گی اور حکومتی پالیسی کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔
اتھارٹی کے اختیارات
پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہو گا اور اسے ملک کے کسی بھی حصے میں علاقائی دفاتر قائم کرنے کا اختیار ہو گا۔ اتھارٹی جائیداد خرید، فروخت، لیز یا ترقی دے سکے گی، بندرگاہی زمین کو تجارتی و سرحدی مقاصد کے لیے استعمال کر سکے گی، سامان کی فوری کلیئرنس کے اقدامات کر سکے گی، لائسنس جاری یا منسوخ کر سکے گی اور ہوٹلز، رہائشی عمارتیں، تجارتی مراکز اور تفریحی مقامات تعمیر کر سکے گی۔

اتھارٹی کو ملکی و غیر ملکی اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری میں منصوبے چلانے، سرگرمیاں آؤٹ سورس کرنے اور امن و امان کے لیے پاسپورٹ، کسٹمز، رینجرز، پولیس اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کا اختیار بھی ہو گا۔
خلاف ورزی پر سزا
قانون کے مطابق بغیر اجازت یا لائسنس کے لینڈ پورٹ پر سرگرمی چلانا، رکاوٹ ڈالنا یا نقصان پہنچانا جرم ہو گا، جس کی سزا تین سال قید اور دو کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتی ہے۔
اتھارٹی کے مجاز افسر کی تحریری شکایت کے بغیر کسی عدالت میں کارروائی نہیں ہو سکے گی، جبکہ فیصلوں کے خلاف 30 دن میں ٹربیونل میں اپیل دائر کی جا سکے گی۔
یہ قانون پورے ملک میں نافذ العمل ہو گا اور لینڈ پورٹس کی ترقی، نگرانی اور تجارتی سہولت میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔