اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو سپریم کورٹ نے مئی 9، 2023 کے ہنگاموں سے متعلق آٹھ مقدمات میں ضمانت دے دی۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنایا، جس میں لاہور ہائی کورٹ کے جون 2025 کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
عدالت کا مؤقف
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ استغاثہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ واضح کرے کہ لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت مسترد کرنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ آئندہ سماعتوں میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ سماعت کے دوران پنجاب کے اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی کی علالت کے باعث غیر حاضری پر کیس کو اگلے دن تک ملتوی کر دیا گیا۔
حکومتی ردعمل
وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے امکانات موجود ہیں، تاہم ان مذاکرات میں عمران خان کی رہائی شامل نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق عمران خان کی رہائی عدالتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، حکومت اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔