جب دریا نے روزگار چھین لیا_ روہڑی کے قدیم پَبّ قبیلہ اور پَلہ مچھلی کی دردناک کہانی

فیچر کہانی-تاج رند

سندھ کے قدیم شہر روہڑی کی شناخت صرف اس کے تاریخی مزارات، ریلوے اسٹیشن یا قلعہ بکر سے نہیں، بلکہ ایک ایسی مچھلی سے بھی جڑی ہے جو سندھ کی ثقافت اور معیشت دونوں میں زندہ علامت کی حیثیت رکھتی ہے — پَلہ مچھلی (Hilsa Ilisha)۔
یہ مچھلی مارچ سے جون کے درمیان سمندر سے نکل کر سندھُو دریا کے میٹھے پانی میں داخل ہوتی ہے تاکہ افزائشِ نسل کر سکے، لیکن بیراجوں کی تعمیر کے بعد اس کا دریا میں آنا بہت کم ہو گیا ہے۔

تاریخی پس منظر: برٹن کی تحریروں سے

انیسویں صدی کے معروف برطانوی سیاح رچرڈ ایف. برٹن نے اپنی مشہور تصنیف “Sindh Revisited” (1877ء) میں لکھا کہ سب سے بڑی پَلہ مچھلی بکر کے قریب پکڑی جاتی ہے۔
اس کے مطابق، ایک عام پَلہ مچھلی کی لمبائی 18 انچ اور وزن تقریباً تین پاؤنڈ تک ہوتا تھا۔
برٹن کے مشاہدے کے مطابق، مچھیرے صبح سویرے چھوٹی کشتیوں پر نکلتے، مخصوص “دل” نامی جالوں سے مچھلی پکڑتے، اور واپس آکر دن کا رزق اسی پر پورا کرتے تھے۔

روایتی طریقے اور مچھیرے کی زندگی

پَلہ مچھلی پکڑنے کے لیے ماہی گیر چھوٹی لکڑی کی کشتیوں اور پیتل، تانبے یا پختہ مٹی سے بنے جالوں کا استعمال کرتے تھے۔
ماہی گیر کے ہاتھ میں ایک مخصوص ڈنڈی ہوتی تھی، جس کے سرے پر تین شاخوں والی “چکی” لگی ہوتی تھی۔ وہ اس کے ذریعے پَلہ کو جال میں پھنسا کر کشتی میں کھینچ لیتے تھے۔
یہ نہ صرف ہنر تھا بلکہ جسمانی طاقت، صبر اور دریا کے بہاؤ کو سمجھنے کی صلاحیت بھی۔

پبّ قبیلہ: روہڑی کا دریائی ورثہ

روہڑی کے قدیم باسیوں میں پبّ قبیلہ نمایاں ہے — جن کا بنیادی پیشہ پَلہ مچھلی پکڑنا تھا۔
ان کا مرکز “خس خانا تڑ” کہلاتا تھا، جہاں سے وہ روزانہ کشتیوں میں دریا کی طرف نکلتے۔
1932ء میں سکھر بیراج کی تعمیر سے پہلے پبّ قبیلہ خوشحال تھا۔
شام کے وقت مرد ریشمی کپڑے پہنتے، سونے کی منڈیاں پہن کر بازار جاتے — یہ خوشحالی پَلہ مچھلی ہی کی بدولت تھی۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق، خواجہ خضر کے جزیرے سے قلعہ بکر تک کا دریا کا علاقہ پبّ قبیلے کے زیرِ استعمال تھا۔
ان کے پاس مختلف جاگیریں اور دستاویزات تھیں جن پر مقامی عمائدین اور کَلہوڑہ دور کے حاکموں کی مہریں ثبت تھیں۔

بازارِ ماہی فروشاں: روہڑی کی معیشت کا مرکز

روہڑی کی قدیم مچھلی مارکیٹ، جسے ماضی میں “بازارِ ماہی فروشاں” کہا جاتا تھا، پَلہ مچھلی کی تجارت کا مرکز تھی۔
پبّ قبیلے کے مچھیرے مچھلی پکڑ کر بیوپاریوں (ساٹیوں) کو بیچتے، جو پھر اسے بازار میں فروخت کرتے۔

سندھی ثقافت میں پَلہ کو سب سے لذیذ کھانا اور معزز تحفہ سمجھا جاتا ہے۔

مارچ کے مہینے میں پکڑی جانے والی پہلی پَلہ مچھلی کو ٹالپر حکمرانوں کو بطور نذرانہ پیش کیا جاتا تھا۔

بیراجوں کا اثر اور ماحولیاتی تبدیلی

1932ء میں سکھر بیراج، اور بعد ازاں 1955ء میں غلام محمد (کوٹری) بیراج کی تعمیر سے پَلہ مچھلی کی قدرتی ہجرت میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
پہلے یہ مچھلی بکر اور روہڑی تک عام ملتی تھی، لیکن اب اس کی افزائش صرف نیچے کے علاقوں تک محدود ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق، بیراجوں نے سندھُو دریا کے پانی کے بہاؤ کو بدل دیا، جس سے پَلہ مچھلی کی نسل تیزی سے کم ہوئی — اور ساتھ ہی مقامی معیشت بھی متاثر ہوئی۔

ثقافتی اور معاشی پہلو

پَلہ مچھلی سندھ کے روزمرّہ کھانوں کا حصہ ہونے کے ساتھ ایک ثقافتی علامت بھی ہے۔
ایک پرانا سندھی محاورہ ہے:

> “سڀ کان ڀلي شيءِ پلو آهي” — (سب سے اچھی چیز پَلہ ہے)

پَلہ صرف کھانا نہیں، بلکہ ایک تہذیبی فخر ہے۔
آج بھی روہڑی کی پرانی مچھلی مارکیٹ میں یہ مچھلی بیچی جاتی ہے، مگر مقدار بہت کم ہے۔

مستقبل کی راہیں اور تحفظ کی ضرورت

ماہرین کے مطابق اگر بیراجوں میں Fish Ladders (فش لیڈرز) نظام کو بہتر بنایا جائے اور دریا میں قدرتی بہاؤ بحال کیا جائے، تو پَلہ مچھلی دوبارہ اپنی پرانی شان واپس حاصل کر سکتی ہے۔
یہ صرف ایک ماحولیاتی قدم نہیں بلکہ سندھ کے تاریخی ورثے کی بحالی بھی ہوگی۔

روہڑی کا پَلہ مچھلی صرف ایک مچھلی نہیں، بلکہ سندھ کی ثقافت، تاریخ اور معیشت کی جیتی جاگتی علامت ہے۔

یہ کہانی ایک دریا کی ہے — جو بہتا رہا، مگر اس کے بہاؤ کے ساتھ ایک تہذیب بھی بہہ گئی۔
اگر ہم نے اسے بچانے کی کوشش نہ کی، تو شاید آنے والی نسلیں صرف کتابوں میں پڑھیں گی کہ “روہڑی میں کبھی پَلہ مچھلی آیا کرتی تھی”۔

📚 ماخذ:
rohri.net/2025/10/rohri-palla-fish-burton-history.html

اپنا تبصرہ لکھیں