کراچی (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ جاب پورٹل (SJP) کا باضابطہ افتتاح کر دیا، انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈجیٹل جاب پورٹل کے ذریعے بھرتی کا پورا عمل اب مکمل طور پر آن لائن، شفاف اور میرٹ پر مبنی بنایا گیا ہے.
وزیراعلیٰ سندھ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام شہید بینظیر بھٹو کے نعرے “بینظیر آئی ہے، روزگار لائی ہے” کی عملی تعبیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ٹیکنالوجی کے استعمال سے بھرتی کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کر دیا ہے.
سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ اگر کوئی امیدوار امتحان میں ناکام ہو جائے تو وہ متعدد بار دوبارہ امتحان دے سکتا ہے، جبکہ پہلی کوشش کے اخراجات مکمل طور پر حکومت سندھ برداشت کرے گی. اب تک 3 لاکھ 26 ہزار امیدوار امتحانات پاس کر چکے ہیں اور اب ہر ماہ باقاعدگی سے امتحانات منعقد کیے جائیں گے.
انہوں نے کہا کہ تمام دستاویزات بشمول تعلیمی اسناد، قومی شناختی کارڈ اور ڈومیسائل پورٹل پر اپ لوڈ کیے جائیں گے، جس سے ایک جامع ڈیٹا بیس تشکیل پائے گا۔ امتحان پاس کرنے والے امیدوار اب سرکاری ملازمتوں کے لیے براہِ راست آن لائن درخواست دے سکیں گے.
وزیراعلیٰ نے وضاحت کی کہ ہر سرکاری محکمہ اپنی آسامیوں کی تفصیلات پورٹل پر اپ لوڈ کرے گا، اور نئی اسامیوں کے اضافے کے ساتھ پورٹل خودکار طریقے سے اپ ڈیٹ ہوتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اکثر نوکریوں کا اعلان مالی منظوری سے پہلے کر دیا جاتا تھا، جس سے تاخیر ہوتی تھی، مگر اب پورا عمل ہم آہنگ اور خودکار طور پر آن لائن مکمل ہوگا.
سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ محکمہ اطلاعات جب نوکریوں کے اشتہارات جاری کرے گا تو وہ اخبارات کے ساتھ ہی جاب پورٹل پر بھی دستیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مربوط نظام بھرتی کے عمل کو تیز، شفاف اور میرٹ پر مبنی بنائے گا.
انہوں نے کہا کہ سندھ جاب پورٹل محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ اقدام سندھ حکومت کی جانب سے ای-گورننس اور ڈیجیٹل عوامی خدمات کے فروغ کی سمت ایک انقلابی قدم ہے.
ابتدائی طور پر گریڈ 5 سے 15 تک کی اسامیاں اس پورٹل پر دستیاب ہوں گی، تاہم اب یہ نظام تمام گریڈز کے لیے مؤثر طور پر کام کرے گا۔ پورٹل اسکریننگ ٹیسٹ انیشی ایٹو سے منسلک ہے جو سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے تعاون سے بھرتیوں کے امتحانات کو شفاف بناتا ہے.
2023 سے 2025 کے دوران 3 لاکھ 26 ہزار 368 امیدوار امتحانات پاس کر چکے ہیں، جو اب پورٹل کے ذریعے براہِ راست درخواست دینے کے اہل ہیں۔ اس نظام نے بھرتی کے عمل کا وقت 12 ماہ سے کم کر کے صرف ایک ماہ کر دیا ہے.
پورٹل کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں:
مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جاب میچنگ سسٹم
اردو اور انگریزی میں وائس سرچ
تین زبانوں (اردو، سندھی، انگریزی) میں انٹرفیس
صحت و پولیس کے محکموں سے آن لائن تصدیق
SMS، ای میل اور پورٹل نوٹیفکیشنز کے ذریعے اپ ڈیٹس
رجسٹریشن کا عمل انتہائی آسان اور محفوظ ہے۔ امیدوار اپنے CNIC اور موبائل نمبر کے ذریعے رجسٹریشن کر کے OTP تصدیق کے بعد پورٹل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ محکمے اپنی بھرتیوں، انٹرویوز اور تقرری کے عمل کو بھی مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں مکمل کر سکیں گے.
وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی علی راشد نے کہا کہ یہ نظام امیدواروں کے وقت اور اخراجات دونوں میں خاطر خواہ بچت فراہم کرتا ہے.
چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے اسے میرٹ پر مبنی روزگار کی فراہمی کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفيسر آصف شیخ نے کہا کہ سندھ جاب پورٹل پاکستان کا پہلا مکمل ڈیجیٹل اور میرٹ پر مبنی بھرتی کا نظام ہے جو حکومت اور امیدوار دونوں کے لیے یکساں طور پر مؤثر اور شفاف ہے.