اسلام آباد (ویب ڈیسک) ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد جسٹس امین الدین خان نے جمعرات کو ایوانِ صدر میں بطور چیف جسٹس اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی تقریب صبح 10 بجے منعقد ہوئی، جس میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز، چیف جسٹس صاحبان اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی.
ایوانِ صدر کے ذرائع کے مطابق صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی سفارش پر جسٹس امین الدین خان کی باضابطہ تقرری کے احکامات جاری کی. یہ تقرری 27ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کی جانے والی وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) کے قیام کا پہلا مرحلہ ہے.
جسٹس امین الدین خان کا پروفائل
جسٹس خان 1960 میں ملتان میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک وکیل گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور 1984 میں یونیورسٹی لا کالج، ملتان سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی.
انہوں نے اپنے والد خان صادق محمد احسن کے زیرِ تربیت وکالت کا آغاز کیا۔ 1987 میں لاہور ہائی کورٹ اور 2001 میں سپریم کورٹ کے وکیل کے طور پر رجسٹرڈ ہوئے.
2001 میں انہوں نے Zafar Law Chambers ملتان میں شمولیت اختیار کی اور 2011 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ انہوں نے ملتان اور بہاولپور بنچز پر بطور جج ہزاروں مقدمات کے فیصلے دیے.
2019 میں وہ سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور اس وقت کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سے حلف لیا۔
نومبر 2024 میں وہ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے سربراہ مقرر ہوئے، جہاں وہ سینئرٹی میں چوتھے نمبر پر ہیں.
وفاقی آئینی عدالت کا قیام
ذرائع کے مطابق، وفاقی آئینی عدالت کا ابتدائی ڈھانچہ سات ججوں پر مشتمل ہوگا، جن میں چار سپریم کورٹ، دو ہائی کورٹ کے ججز اور چیف جسٹس شامل ہوں گے.
ابتدائی طور پر جن ناموں پر غور کیا جا رہا ہے ان میں جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس عامر فاروق، جسٹس باقر نجفی (سپریم کورٹ سے)، جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس روزی خان بڑیچ شامل ہیں.
ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت کی ابتدائی تشکیل صدارتی حکم کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ مستقبل میں ججز کی تعداد میں اضافے کے لیے پارلیمان کی منظوری درکار ہوگی.
عدالتی اصلاحات کا حصہ
قانون و انصاف کی وزارت کے حکام کے مطابق، وفاقی آئینی عدالت کا قیام عدالتی اصلاحات کے اسی پیکیج کا حصہ ہے جو 27ویں آئینی ترمیم کے تحت منظور کیا گیا۔
اس ترمیم کا مقصد سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو منظم کرنا اور آئینی معاملات کے فیصلوں میں تیزی و شفافیت پیدا کرنا ہے.
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی عدالت کے قیام سے سپریم کورٹ کا بوجھ کم ہوگا، آئینی مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر نہیں ہوگی، اور عدلیہ کی خودمختاری مزید مضبوط ہوگی.
عدلیہ کے ڈھانچے میں تبدیلی
وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال مقرر کی گئی ہے، جو سپریم کورٹ کے ججز (65 سال) سے تین سال زیادہ ہے.
نئی عدالت سپریم کورٹ کی عمارت میں قائم نہیں ہوگی۔ ممکنہ طور پر اسے اسلام آباد میں وفاقی شرعی عدالت (FSC) کی عمارت میں منتقل کیا جائے گا، جبکہ شرعی عدالت کے ججز اور عملے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت کی تیسری منزل پر منتقل کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے.
البتہ، وفاقی شرعی عدالت کے ذرائع کے مطابق، اس اچانک منتقلی پر عدالت کے ججز نے اپنے تحفظات چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے رکھ دیے ہیں.