جکارتہ/بینکاک (رائٹرز/انڈس ٹربیون) جنوب مشرقی ایشیا کے وسیع علاقے گزشتہ ایک ہفتے سے طوفانی بارشوں اور سیلاب کی لپیٹ میں ہیں، جبکہ جمعہ کے روز خطے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 183 ہوگئی۔ حکام متاثرہ علاقوں میں پھنسے شہریوں کے انخلا، بجلی و مواصلات کی بحالی اور ریسکیو آپریشنز میں تیزی سے مصروف ہیں کیونکہ کئی مقامات پر پانی اترنا شروع ہوگیا ہے۔
انڈونیشیا: ہلاکتیں 94 تک پہنچ گئیں، ہزاروں افراد محصور
انڈونیشیا کے جزیرہ سماٹرا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے اب تک 94 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ صوبائی حکام کے مطابق بدترین متاثرہ علاقے پادانگ پریامان میں 22 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جہاں ایک میٹر تک پانی اب بھی جمع ہے اور کئی بستیاں تاحال ریسکیو ٹیموں کی پہنچ سے دور ہیں۔
متاثرہ شہری محمد رئیس نے روئٹرز کو بتایا:
“ہماری خوراک ختم ہو رہی ہے، اب دو روز سے گھر کی دوسری منزل پر پناہ لیے ہوئے ہیں”۔
بعض علاقوں میں کمیونیکیشن نظام مکمل طور پر معطل ہے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ سے کئی اہم راستے بند ہیں۔ انڈونیشین ڈیزاسٹر ایجنسی کے مطابق امدادی سامان اور ریسکیو اہلکاروں کو فضائی ذریعے متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔
تھائی لینڈ: 87 افراد جاں بحق، 35 لاکھ سے زائد متاثر
تھائی حکومت کے مطابق ملک کے جنوبی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب سے 87 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ 35 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
شدید متاثرہ شہر ہت یائی میں جمعہ کے روز بارش تھم گئی، مگر گھروں اور سڑکوں پر اب بھی پانی موجود ہے اور کئی علاقوں میں بجلی بحال نہیں ہو سکی۔
52 سالہ سمپورن پیچتائے نے رائرز کو بتایا:
“میرا گھر تو محفوظ رہا، مگر میں کئی دن تک محصور رہا، جیسے کسی جزیرے میں پھنس گیا ہوں”۔
ملائیشیا میں طوفان ‘سنیار’ کی آمد، دو ہلاکتیں
ملائیشیا میں اب تک دو افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ ٹراپیکل اسٹورم سنیار آدھی رات کے وقت ساحل سے ٹکرایا اور بعد ازاں کمزور پڑ گیا۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ تیز بارشیں، ہوا اور سمندر میں طغیانی آئندہ دنوں تک جاری رہ سکتی ہے، جو چھوٹی کشتیوں اور ماہی گیروں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
خطے کے تینوں ممالک میں ریسکیو آپریشنز جاری ہیں جبکہ حکومتیں شہریوں کو محتاط رہنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کر رہی ہیں.