بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء سپردِ خاک، جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت

ڈھاکہ(ویب ڈیسک) بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیا کو بدھ کے روز ڈھاکہ میں ان کے شوہر اور سابق صدر ضیا الرحمان کے پہلو میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

ان کی نمازِ جنازہ ظہر کے بعد ڈھاکہ کے مانک میا ایونیو میں ادا کی گئی، جہاں آخری دیدار کے لیے ملک بھر سے لاکھوں افراد جمع ہوئے۔ جنازے میں شرکت کے لیے لوگوں کی آمد صبح سات بجے ہی شروع ہو گئی تھی، جس کے باعث دارالحکومت کے کئی حصوں میں ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔

خالدہ ضیا منگل کے روز طویل علالت کے بعد 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔ وہ بنگلہ دیش کی سیاست کی ایک نمایاں اور بااثر شخصیت سمجھی جاتی تھیں اور دو مرتبہ ملک کی وزیر اعظم رہ چکی تھیں۔

نمازِ جنازہ سے قبل بی این پی کے قائم مقام چیئرمین اور خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے طارق رحمان نے پارلیمنٹ کمپلیکس کے احاطے میں موجود پارٹی کارکنان سے مختصر خطاب کیا۔ مقامی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ ایک خاموش اور سوگوار ہجوم ان کی گفتگو توجہ سے سن رہا ہے۔

جنازے اور تدفین کے موقع پر بی این پی کے سینئر رہنماؤں کے علاوہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس بھی موجود تھے، جنہوں نے خود بھی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

اس سے قبل قوم سے ٹیلی ویژن خطاب میں محمد یونس نے خالدہ ضیا کے انتقال پر تین روزہ سرکاری سوگ اور ایک دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کی وفات ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

نمازِ جنازہ کے بعد خالدہ ضیا کے جسدِ خاکی کو ڈھاکہ کے چندریما اُدھیان منتقل کیا گیا، جہاں انہیں ان کے شوہر اور بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیا الرحمان کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔

سخت سکیورٹی کے گھیرے میں خالدہ ضیاء کی میت آخری آرام گاہ کی طرف لے جایا جا رہا ہے

علاقائی رہنماؤں کی شرکت

خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے پاکستان، بھارت، نیپال اور بھوٹان سمیت کئی جنوبی ایشیائی ممالک نے اپنے نمائندے ڈھاکہ بھیجے۔
پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی جنازے میں شرکت کی اور طارق رحمان سے ملاقات کر کے تعزیت کا اظہار کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں