تہران میں حکومت کے حق میں بڑا مظاہرہ، ملک گیر احتجاج 16ویں روز میں داخل

تہران(ویب ڈیسک) ایران کے دارالحکومت تہران میں حکومت کے حق میں ہزاروں افراد نے پیر کے روز ریلی نکالی، جسے ایرانی حکام نے جاری ملک گیر احتجاجی تحریک کے مقابلے میں اپنی طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کیا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق مظاہرین شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے انقلاب اسکوائر پہنچے، جہاں ’امریکی۔صہیونی دہشت گردی کے خلاف ایرانی بغاوت‘ کے عنوان سے جلسہ منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مغربی طاقتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت ’’چار محاذوں پر جنگ‘‘ لڑ رہا ہے، جن میں معاشی، نفسیاتی، عسکری اور دہشت گردی کے خلاف جنگ شامل ہے۔

قالیباف نے امریکہ اور اسرائیل کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو ایرانی افواج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’ناقابلِ فراموش سبق‘‘ سکھائیں گی۔ جلسے میں ’’امریکہ مردہ باد‘‘ اور ’’اسرائیل مردہ باد‘‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس مظاہرے کو امریکی سیاست دانوں کے لیے ’’واضح وارننگ‘‘ قرار دیا۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ یہ عوامی اجتماعات ’’غیر ملکی دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے‘‘ کا ثبوت ہیں، جنہیں اندرونی عناصر کے ذریعے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

دارالحکومت ایران میں حکومت کی حمایت میں نکالے گئے ریلی میں شامل لوگوں کے ہاتھوں میں ایرانی پرچم اور آیت اللہ خامنہ ای کی تصویریں تھیں: روئٹرز

یہ مظاہرہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران میں گزشتہ 16 دنوں سے جاری احتجاجی تحریک 2009 کے بعد سب سے بڑی عوامی بغاوت بن چکی ہے۔ مظاہرے ابتدائی طور پر کرنسی کی قدر میں اچانک کمی کے خلاف تاجروں کے احتجاج سے شروع ہوئے، جو بعد میں حکومت کے خاتمے کے مطالبات میں بدل گئے۔

ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ حالات قابو میں ہیں، تاہم انٹرنیٹ بندش کے باعث ملک کے اندر کی صورتِ حال کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔ ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ’ایران ہیومن رائٹس‘ کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک کم از کم 648 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 9 کم عمر بچے بھی شامل ہیں، جبکہ تنظیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اصل تعداد 6 ہزار سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں رات کے وقت مختلف شہروں میں احتجاج جاری دکھایا گیا ہے، حالانکہ حکام دعویٰ کر رہے ہیں کہ صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے۔ بعض عینی شاہدین کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بعض علاقوں میں فائرنگ سے قبل بجلی بند کر دی تاکہ لوگ اندھیرے میں گھبرا جائیں۔

دوسری جانب حکام نے کریک ڈاؤن مزید سخت کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اب تک کم از کم 96 افراد کے جبری اعترافی بیانات سرکاری ٹی وی پر نشر کیے جا چکے ہیں، جنہیں بعد ازاں سزائے موت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہیومن رائٹس گروپ ہینگاو کے مطابق 26 سالہ عرفان سلطانی کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے، جنہیں بدھ کے روز پھانسی دیے جانے کا امکان ہے، اور وہ اس تحریک کے آغاز کے بعد پہلے مظاہرہ کرنے والے ہوں گے جنہیں سزائے موت دی جا رہی ہے۔

ایران کے معزول شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز اور سرکاری ملازمین سے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہزاروں سیکیورٹی اہلکار حکومت چھوڑنے پر آمادہ ہو چکے ہیں۔

ادھر جرمنی اور کینیڈا سمیت کئی مغربی ممالک نے ایرانی حکومت کے کریک ڈاؤن کی شدید مذمت کی ہے، جبکہ دنیا بھر میں ہزاروں ایرانی تارکین وطن نے بھی احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں