واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ واشنگٹن تہران کے خلاف کسی بڑے فیصلے کے قریب ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران سے مذاکرات کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے دوران فوجی آپشنز پر غور جاری ہے۔
ٹرمپ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ایران میں مظاہرین کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکی مدد “راستے میں ہے”، جسے بعض مبصرین نے حکومت کی تبدیلی کی حمایت کے طور پر دیکھا ہے۔
تاہم، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر کے قریبی سیاسی اتحادیوں اور مشیروں کے درمیان اس معاملے پر واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض حلقے خبردار کر رہے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی سے امریکہ ایک اور طویل اور غیر یقینی جنگ میں الجھ سکتا ہے، جو نہ صرف خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرے گی بلکہ ٹرمپ کے “امریکہ فرسٹ” بیانیے کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے اندر کیا ہو رہا ہے؟
رپورٹ کے مطابق نیشنل سکیورٹی کونسل نے صدر ٹرمپ کی غیر موجودگی میں اجلاس منعقد کیا، جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کیا۔ ان میں محدود فوجی حملے، معاشی دباؤ میں اضافہ، سائبر حملے اور ایرانی مظاہرین کی خفیہ مدد جیسے اقدامات شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ ماضی میں یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کے قتل کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو امریکہ طاقت استعمال کر سکتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور اپوزیشن ذرائع کے مطابق، ان مظاہروں میں اب تک دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم ایران میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث آزاد تصدیق مشکل ہے۔
اتحادیوں کا خدشہ: ایک اور لیبیا یا شام؟
واشنگٹن پوسٹ لکھتا ہے کہ یورپی اور خلیجی اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ اگر ایران میں موجودہ حکومت کا اچانک خاتمہ ہوا تو ملک خانہ جنگی یا مکمل ریاستی ناکامی کی طرف جا سکتا ہے، جیسا کہ لیبیا اور شام میں ہوا۔ بعض سابق امریکی حکام نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہٹایا گیا تو اس کے نتیجے میں مزید سخت گیر عناصر اقتدار میں آ سکتے ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔
فوجی صلاحیتیں اور عملی رکاوٹیں
رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں محدود فوجی وسائل موجود ہیں۔ حالیہ مہینوں میں امریکی بحری اور فضائی اثاثوں کا ایک حصہ وینزویلا میں آپریشنز کے لیے منتقل کیا گیا، جس کے باعث ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملہ فوری طور پر ممکن نہیں۔ تاہم امریکی بحری جہاز، آبدوزیں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیارے اب بھی ایک ممکنہ آپشن سمجھے جا رہے ہیں۔
داخلی سیاست اور ’میکا‘ دباؤ
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایران کے رہنما اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ صدر ٹرمپ کو اندرونِ ملک اپنی ’میکا‘ تحریک کی جانب سے ممکنہ ردِعمل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے تہران کی جانب سے مذاکرات کی پیشکشوں کو بعض مغربی حکام محض وقت حاصل کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔