’عوام راج‘ کس کا؟ اقرار الحسن کی جماعت پر نام چرانے کا الزام

کراچی(رپورٹ: تاج رند) پاکستان کے معروف صحافی اور ٹی وی اینکر اقرار الحسن کی جانب سے نئی سیاسی جماعت “پاکستان عوام راج تحریک” کے اعلان کے فوراً بعد یہ جماعت تنقید اور تنازع کی زد میں آ گئی ہے. کراچی سے تعلق رکھنے والے عوامی راج تحریک پاکستان کے چیئرمین ایڈووکیٹ سید خلیل احمد شاہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اقرار الحسن نے ان کی جماعت کے نام کی نقل کی ہے اور اسے “کاپی پیسٹ جماعت” قرار دیا ہے.

اقرار الحسن نے جمعرات کو لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان میں سیاسی تبدیلی لانے کے لیے نئی جماعت کے قیام کا اعلان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سرخ رنگ، ستارہ اور ہلال پر مشتمل جماعت کے پرچم کی بھی رونمائی کی.

لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قرار الحسن نے اپنی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کیا

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کا مقصد پاکستان کے سیاسی نظام میں حقیقی اور عملی تبدیلی لانا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں دہائیوں سے جاری خاندانی اور روایتی سیاست نے جمہوری نظام کو کمزور کر دیا ہے، اس لیے سیاست کو شخصیات کے بجائے اداروں اور شفاف جمہوری عمل سے جوڑنے کی ضرورت ہے.

اقرار الحسن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھی جماعت کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ،
“ہم نے فوجی راج، بھٹو راج، خان راج اور گورنر راج دیکھا، اب اس مل میں عوام راج ہو گا.”
انہوں نے اپنی تحریک کا نعرہ “اب راج کرے گی خلقِ خدا” بھی پیش کیا.

اقرار نے ایکس پر لکھا کہ پہلے فوجی راج، بھٹو راج اور گورنر راج دیکھا لیکن اب “عوامی راج” ہوگا

تاہم اس اعلان کے بعد عوامی راج تحریک پاکستان کے چیئرمین ایڈووکیٹ سید خلیل احمد شاہ نے شدید ردِعمل دیا. ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے 2016 میں عوامی راج تحریک کی بنیاد رکھی تھی اور بعد ازاں اپنی تنظیم کا آئین الیکشن کمیشن آف پاکستان سے منظور کرایا.

ایڈووکیٹ سید خلیل شاہ کے مطابق انہوں نے 2017 میں عوامی راج تحریک پاکستان کی بنیاد رکھی

ایڈووکیٹ خلیل شاہ کے مطابق 2017 میں انہوں نے اپنی جماعت کو “عوامی راج پارٹی” کے نام سے رجسٹر کرانے کی کوشش کی تھی، تاہم چونکہ پاکستان عوامی راج پارٹی پہلے ہی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ تھی، اس لیے انہوں نے اپنی تنظیم کا نام تبدیل کر کے عوامی راج تحریک پاکستان رکھ دیا.

ان کا کہنا تھا کہ اقرار الحسن کو نئی جماعت کا نام رکھنے سے پہلے تحقیق کرنی چاہیے تھی.
“اگر کوئی شخص پہلے سے موجود جماعت کا نام نقل کر کے سیاست میں آتا ہے تو اس سے کس قسم کی تبدیلی کی توقع کی جا سکتی ہے؟” انہوں نے سوال اٹھایا.

ایڈووکیٹ خلیل شاہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت سندھ میں ہزاروں کارکنوں پر مشتمل ہے،

ایڈووکیٹ خلیل شاہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت سندھ میں ہزاروں کارکنوں پر مشتمل ہے، کراچی میں مرکزی دفتر قائم ہے اور سات اضلاع میں تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے. ان کے مطابق سندھی اور اردو الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا عوامی راج تحریک پاکستان کی سرگرمیوں اور جدوجہد کا گواہ ہے.

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اقرار الحسن سیاست میں آنا چاہتے ہیں تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم موجودہ جماعت کے نام سے مماثلت رکھنے والا نام رکھنا قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے نام پر نظرثانی نہ ہونے کی صورت میں قانونی چارہ جوئی کا عندیہ بھی دیا.

یاد رہے کہ اس سے قبل پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے 2015 میں عوامی راج تحریک کے نام سے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا، جسے بعد میں عوامی راج پارٹی کے نام سے الیکشن کمیشن میں رجسٹر کرایا گیا.

جمشید دستی نے 2015 میں پاکستان عوامی راج پارٹی کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کروایا تھا

جمشید دستی 2023 کے عام انتخابات میں این اے 175 مظفرگڑھ سے کامیاب ہوئے تھے، تاہم 15 جولائی 2025 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انہیں جعلی ڈگری کیس میں نااہل قرار دے دیا، جبکہ 22 ستمبر 2025 کو ملتان کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے انہیں اسی کیس میں مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی.

اپنا تبصرہ لکھیں