کابل(ویب ڈیسک) امارات اسلامی افغانستان میں برسر اقتدار طالبان حکومت میں اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں، جس کے باعث طالبان حکومت “قندھار اور کابل” دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے.
بین الاقوامی خبر رساں ادارے بی بی سی نے دعویٰ کیا ہے ہے کے ان کو ایک خفیہ آڈیو کلپ موصول ہوئی ہے جس میں طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ طالبان حکومت میں اندرونی اختلافات کو ظاہر کرتی ہیں.
بی بی سی کے مطابق آڈیو میں طالبان کے سپریم لیڈر کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ اگر حکومت کے اندر موجود دھڑے آپس میں برسرپیکار رہے تو “اسلامی امارت ختم ہو جائے گی”۔ یہ خطاب جنوری 2025 میں قندھار کے ایک مدرسے میں طالبان اراکین سے کیا گیا تھا۔
یہ بیان ان افواہوں کو مزید تقویت دیتا ہے جو کئی ماہ سے گردش کر رہی تھیں کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت کے اندر سنجیدہ اختلافات موجود ہیں۔ اگرچہ طالبان قیادت نے ان اختلافات کی ہمیشہ تردید کی ہے، تاہم بی بی سی افغان سروس کی ایک سالہ تحقیق میں پہلی بار انکشاف ہوا ہے کہ طالبان کی قیادت دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔
قندھار بمقابلہ کابل
بی بی سی کی تحقیق کے مطابق ایک دھڑا قندھار میں مقیم سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے مکمل وفاداروں پر مشتمل ہے، جو افغانستان کو ایک سخت گیر، تنہا اسلامی ریاست کے طور پر چلانا چاہتے ہیں، جہاں مذہبی علما ہر شعبے پر حاوی ہوں۔

دوسرا دھڑا، جسے “کابل گروپ” کہا جا رہا ہے، کابل میں موجود بااثر طالبان وزرا، عسکری کمانڈرز اور مذہبی شخصیات پر مشتمل ہے۔ یہ گروپ اگرچہ سخت اسلامی تشریح کا حامی ہے، مگر عالمی برادری سے روابط، معیشت کی بحالی اور لڑکیوں و خواتین کی تعلیم و روزگار کی محدود اجازت کا خواہاں ہے۔
ایک طالبان ذریعے نے اس کشمکش کو “قندھار ہاؤس بمقابلہ کابل” قرار دیا۔
انٹرنیٹ بندش: بغاوت کی علامت؟
یہ اختلاف اس وقت کھل کر سامنے آیا جب ستمبر 2025 میں ہیبت اللہ اخوندزادہ نے پورے افغانستان میں انٹرنیٹ اور فون سروس بند کرنے کا حکم دیا۔ تاہم صرف تین دن بعد انٹرنیٹ بحال کر دیا گیا۔
بی بی سی کے مطابق کابل گروپ نے سپریم لیڈر کے حکم کے برخلاف انٹرنیٹ دوبارہ بحال کروایا، جسے طالبان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور جرات مندانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک ماہر کے مطابق طالبان کی تنظیمی ساخت میں اطاعت بنیادی اصول ہے، اس لیے یہ اقدام “بغاوت کے مترادف” سمجھا جا رہا ہے۔
طاقت کا ارتکاز اور مزاحمت
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ طالبان اقتدار میں آنے کے بعد اخوندزادہ نے اختیارات بتدریج کابل سے قندھار منتقل کیے، سیکیورٹی فورسز، اسلحہ کی تقسیم اور مذہبی پالیسیوں پر براہ راست کنٹرول قائم کیا۔
اس کے برعکس کابل گروپ، جس میں سراج الدین حقانی، ملا یعقوب اور عبدالغنی برادر شامل ہیں، طالبان کے موجودہ طرزِ حکومت کو افغانستان کے مستقبل کے لیے خطرناک سمجھتا ہے۔
خواتین کے حقوق پر اختلاف

خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندیاں دونوں دھڑوں کے درمیان بنیادی اختلاف کا سبب ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہی مسئلہ طالبان قیادت میں کشیدگی کا بڑا ذریعہ ہے۔
آگے کیا؟
اگرچہ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کسی قسم کی تقسیم موجود نہیں اور یہ محض “رائے کا اختلاف” ہے، تاہم ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ بندش کے معاملے نے ثابت کر دیا ہے کہ طالبان قیادت میں اختلاف اب صرف نجی بات نہیں رہا۔
یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا کابل گروپ محض بیانات تک محدود رہے گا یا عملی اقدامات کی طرف بڑھے گا؟ اور کیا 2026 طالبان کے اندرونی تصادم کا فیصلہ کن سال ثابت ہو گا؟
فی الحال، افغانستان کے مستقبل پر چھائے یہ اختلافات بدستور گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔