اسلام آباد/کوئٹہ/کراچی(ویب ڈیسک) ملک کے بالائی اور شمالی علاقوں میں شدید برفباری اور بارش کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ مختلف حادثات میں 11 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 37 افراد زخمی ہوئے ہیں، متعدد مقامات پر سیاح پھنسے ہوئے ہیں۔

چترال میں برفانی تودہ گرنے سے ایک گھر مکمل طور پر دب گیا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 9 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ڈومیل کے علاقے میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں 5 مرد اور 4 خواتین شامل ہیں، پاک فوج و دیگر ریسکیو اداروں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا، ملبہ ہٹانے کے دوران ایک بچہ زخمی حالت میں ملا جس کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

سیاحتی مقام مری میں گزشتہ روز سے وقفے وقفے سے بارش کے ساتھ برفباری کا سلسلہ جاری ہے، چوبیس گھنٹے کے دوران بارہ انچ تک برف جم گئی ہے. جس کے باعث مختلف علاقوں میں سینکڑوں سیاح پھنس گئے ہیں۔ صورتحال کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے اسلام آباد سے مری جانے والی شاہراہ عارضی طور پر بند کر دی ہے۔
خیبر پختونخوا کی تِیرا وادی میں شدید برفباری کے باعث شہریوں کے پھنسنے کی اطلاعات پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ادھر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی وقفے وقفے سے برفباری جاری ہے، جس سے آمد و رفت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
بلوچستان میں بھی برفباری اور بارش نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ کوئٹہ، زیارت اور دیگر علاقوں میں شدید سردی اور منجمد ہواؤں کے باعث زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
دوسری جانب سندھ کے مختلف علاقوں میں بارش کے بعد سرد ہواؤں کا راج ہے، جس کے باعث سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک سرد موسم اور برفباری کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔