دریائے سندھ سے نایاب اندھی بلھن مردہ حالت میں برآمد، خوراک کی کمی کو موت کی وجہ قرار دے دیا گیا

سکھر(رپورٹ: تاج رند) سکھر میں دریائے سندھ سے نایاب اندھی بلھن (انڈس بلائنڈ ڈولفن) مردہ حالت میں برآمد ہوا.

محکمہ جنگلی حیات کے مطابق ڈولفن کنزرویشن سینٹر کے انچارج شاہ زمان بھاگت کی قیادت میں آپریشن کیا گیا، جس کے دوران مردہ بلھن کو دریا سے نکال لیا گیا۔ شاہ زمان بھاگت کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والی بلھن نر تھی، جس کی عمر تقریباً دو سال تھی جبکہ لاش پانچ دن پرانی معلوم ہوتی ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے ابتدائی جائزے کے مطابق بلھن کی موت خوراک کی شدید کمی کے باعث ہوئی۔ شاہ زمان بھاگت کے مطابق دریائے سندھ میں پانی کی سطح کم ہونے کی وجہ سے بلھن خوراک کی تلاش میں کم گہرے پانی کی جانب چلی گئی تھی، جہاں مناسب غذا نہ ملنے کے باعث اس کی جان چلی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کی کمی، آبی حیات بالخصوص نایاب اندھی بلھن کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث بلہن کا قدرتی مسکن متاثر ہو رہا ہے اور وہ خوراک کی تلاش میں غیر محفوظ علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

واضح رہے کہ سندھ میں پائی جانے والی اندھی بلھن دنیا کی نایاب ترین آبی مخلوقات میں شمار ہوتی ہے اور یہ صرف دریائے سندھ کے مخصوص حصوں تک محدود ہے۔ ماہرین اور حکام بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ بلھن کے تحفظ کے لیے دریاؤں میں پانی کے مناسب بہاؤ کو یقینی بنانا ناگزیر ہے، تاہم حالیہ واقعہ تحفظِ فطرت کے حوالے سے موجود چیلنجز کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں