“بیٹے اور بھانجے کو برہنہ کر کے ٹھنڈا پانی ڈالا گیا” حیدرآباد اور میرپورخاص جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کے الزامات

میرپورخاص/حیدرآباد(انڈس ٹربیون) حیدرآباد اور میرپور خاص سینٹرل جیل میں قیدی قومپرست کارکنان پر غیرانسانی تشدد کے اطلاعات ہیں. پیر کے روز حیدرآباد سے میرپورخاص جیل منتقل کیے گئے قوم پرست کارکنوں پر جیل کے اندر مبینہ تشدد اور انہیں بند وارڈ میں رکھنے کے خلاف جسقم کی جانب سے احتجاج کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد میرپورخاص میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

پولیس نے جیل کے اطراف اور شہر کی مختلف شاہراہوں پر نفری تعینات کر کے بعض راستوں کو عارضی طور پر بند کر دیا۔ اس دوران جسقم رہنماؤں کے مطابق جیل انتظامیہ اور جسقم کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے۔

جسقم کے رہنما سورھیہ سندھی اور مرتضیٰ میرانی کا کہنا ہے کہ انہوں نے انتظامیہ اس یقین دہانی پر اعلان کردہ احتجاج ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہیں کہ مبینہ تشدد کے باعث بیمار ہونے والے قیدی قوم پرست کارکنوں کو طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی، انہیں مناسب خوراک دی جائے گی اور جیل کے اندر قیدیوں پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا جائے گا.

جبکہ سینٹرل جیل میرپورخاص کی انتظامیہ نے قومپرست رہنماؤں سے مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے. انتظامیہ کے مطابق قومپرست رہنماؤں سے نہ کوئی بات چیت ہوئی اور نہ ہی کسی سیاسی یا سماجی شخصیت نے جیل انتظامیہ سے رابطہ کیا، جبکہ تمام قیدیوں کو جیل قوانین کے تحت یکساں قانونی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں.

جسقم کے مطابق اس سے قبل سینٹرل جیل حیدرآباد سے سہیل میرانی، مہراں میرانی، فراز چانڈیو، ہالار چانگ، ثاقب اور دیگر قوم پرست کارکنوں کو سینٹرل جیل میرپورخاص منتقل کیا گیا، جس کے خلاف حیدرآباد میں قید دیگر قوم پرست کارکنوں نے احتجاجاً بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ ان کے مطابق 100 سے زائد قیدی، جن میں منیر ابڑو، اسحاق بھرگڑی، بلال شر، سنی بھٹی، شبیر نوحانی، رحیم کوسو، اسرار سنجرانی ودیگر شامل ہیں، جمعے کے روز سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔

قیدیوں پر مبینہ تشدد کے خلاف قومپرست کارکنان حیدرآباد پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتال کر رہے ہیں.

قیدیوں نے الزام عائد کیا کہ جیل میں قیدیوں سے مختلف بہانوں سے غیر قانونی طور پر رقوم وصول کی جا رہی ہیں اور جیل مینوئل کے برخلاف کچے قیدیوں سے جبری مشقت لی جا رہی ہے۔

انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ جیل میں بعض بااثر قیدیوں کو منشیات فراہم کی جاتی ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والے قیدی سارنگ سہیل میرانی کے والد ذولفی میرانی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹے اور بھانجے کو حیدرآباد سینٹرل جیل میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں زخمی حالت میں میرپورخاص منتقل کیا گیا، جہاں بھی انہیں برہنہ کر ٹھنڈا پانی ڈال کر غیرانسانی سلوک کیا گیا اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

میرپورخاص جیل منتقل کئے گئے قومپرست کارکنان سارنگ اور مہران میرانی کو تشدد کا نشانہ گیا: ذولفی میرانی

تاہم سینٹرل جیل حیدرآباد کے سپرنٹنڈنٹ کریم عباسی کے مطابق جیل کی گنجائش 1400 قیدیوں کی ہے جبکہ اس وقت تقریباً 3000 قیدی موجود ہیں، جس کے باعث کچھ قیدیوں کو کراچی اور میرپورخاص منتقل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سینٹرل جیل میں قیدیوں کی جانب سے کسی بھوک ہڑتال کی اطلاع نہیں ملی۔

اپنا تبصرہ لکھیں