اقوام متحدہ کا ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو پیکا ایکٹ کے تحت سزاؤں پر تشویش کا اظہار

جنیوہ(ويب ڈیسک) اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے (یونائیٹڈ نیشنز ہیومن رائٹس) نے پاکستان میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) کے تحت ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا سنائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یونائیٹڈ نیشنز ہیومن رائٹس نے اپنے تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ منصفانہ ٹرائل سے متعلق خدشات کے پس منظر میں دی جانے والی یہ سزائیں نہایت پریشان کن ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مقدمہ اس خطرے کو نمایاں کرتا ہے کہ پیکا جیسے قوانین کو اختلافِ رائے دبانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ آزادیِ اظہار اور پرامن اجتماع کے حق کا تحفظ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ملکی قوانین کا نفاذ پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق ہو۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اختلافِ رائے اور پرامن احتجاج کسی بھی جمہوری معاشرے کے بنیادی ستون ہوتے ہیں اور ان پر قدغن نہ صرف شہری آزادیوں بلکہ قانون کی بالادستی کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں