اسلام آباد (انڈس ٹربیون) عوامی ورکرز پارٹی نے بلوچستان میں جاری ریاستی پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل کرنے، سول آبادیوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں فوری بند کرنے اور ملک کو ممکنہ خانہ جنگی سے بچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ تمام لاپتہ افراد اور سیاسی قیدیوں کو فی الفور رہا کیا جائے اور مسئلے کے سیاسی حل کی جانب سنجیدہ پیش رفت کی جائے۔
اسلام آباد میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ 31 جنوری کو بلوچستان بھر میں پیش آنے والے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلح بغاوت شدت اختیار کر رہی ہے اور موجودہ ریاستی حکمتِ عملی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اعلامیے کے مطابق بلوچستان سمیت ملک کے دیگر خطوں میں بھی ایک نئے سماجی معاہدے کی تشکیل ناگزیر ہو گئی ہے۔
پارٹی نے ملک بھر میں بڑھتے ہوئے ریاستی جبر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی گرفتاریاں، سیاسی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور 26ویں و 27ویں آئینی ترامیم جیسے قوانین کے ذریعے اظہارِ رائے اور میڈیا کو خاموش کرانے کی کوششیں جمہوری حقوق پر براہِ راست حملہ ہیں۔
اعلامیے میں موجودہ ’’ہائبرڈ حکومت‘‘ کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر مبنی نجکاری، ایس آئی ایف سی کے ذریعے وسائل پر قبضہ، رئیل اسٹیٹ مافیا کی سرپرستی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے عوام کو سنگین معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ پارٹی کے مطابق پی آئی اے جیسے قومی اثاثوں کی فروخت اور بڑے پیمانے پر بے دخلیاں شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔
عوامی ورکرز پارٹی نے عالمی سیاسی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی پالیسیوں خصوصاً ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کو ’’برہنہ سامراجی جارحیت‘‘ قرار دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ فلسطین میں جاری نسل کشی، وینزویلا اور کیوبا پر پابندیاں، ایران کے خلاف دھمکیاں اور کینیڈا و گرین لینڈ کے حوالے سے بیانات عالمی نظام کی ناکامی ظاہر کرتے ہیں۔ پارٹی نے پاکستانی حکومت کی جانب سے امریکی انتظامیہ کی مبینہ خوشامد اور معدنی وسائل و کرپٹو کرنسی سے متعلق معاہدوں کی بھی مذمت کی۔
پارٹی نے ملک میں معدنیات، جنگلات اور زمینوں پر قبضوں، بڑے ڈیموں اور آبی منصوبوں کے نتیجے میں ماحولیاتی تباہی کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ دیہی علاقوں میں چھوٹے کسانوں، چرواہوں اور ماہی گیروں کی بے دخلی اور شہروں میں کچی آبادیوں کی مسماری ایک ہی معاشی جبر کے مختلف روپ ہیں۔
اعلامیے کے مطابق تیراہ وادی میں فوجی آپریشن، گلگت بلتستان میں زلزلہ متاثرین کی نظراندازی اور اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی جیسے اقدامات ریاستی ترجیحات کا کھلا اظہار ہیں۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ فرسودہ سماجی و معاشی ڈھانچے کو صرف ایک وسیع عوامی محاذ کے ذریعے چیلنج کیا جا سکتا ہے جس میں محنت کش طبقہ، متوسط طبقات اور ترقی پسند قومی تحریکیں شامل ہوں۔
عوامی ورکرز پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر بلوچستان اور پختونخوا میں تشدد کو روکنے کے لیے مشترکہ مزاحمتی محاذ قائم نہ کیا گیا تو یہ آگ سندھ، گلگت بلتستان، کشمیر اور سرائیکی خطے تک پھیل سکتی ہے، جبکہ پنجاب سمیت دیگر علاقے بھی عسکریت پسند ریاستی نظام اور نفرت کی سیاست کی گرفت میں آ جائیں گے۔