سکھر(انڈس ٹربیون) سکھر میں غیر سرکاری تنظیم ’’پہل پاکستان‘‘ کے زیرِ اہتمام مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے موضوع پر سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے سابق سربراہ اقبال ڈیتھو نے کہا کہ آئینِ پاکستان مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، لیکن بدقسمتی سے متعدد قوانین کو اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں توہینِ مذہب کے قوانین کا غلط استعمال عام ہو چکا ہے اور سیاسی، ذاتی اور پیشہ ورانہ مفادات کے لیے کمزور طبقات بالخصوص مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اقبال ڈیتھو نے سندھ کے اضلاع کشمور، جیکب آباد، سکھر، گھوٹکی، میرپورخاص اور تھرپارکر میں ہندو کمسن بچیوں کی جبری مذہب تبدیلی اور کم عمری کی شادیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے لمحۂ فکریہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ توہینِ مذہب کے قانون کا غلط استعمال اب صرف غیر مسلموں تک محدود نہیں رہا بلکہ مسلمان بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔ ڈاکٹر شاہنواز کنبہر کیس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں پیکا ایکٹ کے تحت کیس ایف آئی اے کو بھیجنے کے بجائے براہِ راست توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کر دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 1975 میں ہندو املاک کے تحفظ کے لیے قائم وفاقی اویکیو ٹرسٹ بورڈ کا چیئرمین مسلمان ہے جبکہ سندھ حکومت نے 2021 میں صوبائی اویکیو ٹرسٹ قائم تو کیا مگر وہ تاحال فعال نہیں ہو سکا، جس کے باعث سینکڑوں مقدمات التوا کا شکار ہیں۔ اقبال ڈیتھو کے مطابق ملائیشیا جیسے ملک میں مذہب تبدیلی کے لیے عدالت سے رجوع کرنا لازمی ہے اور 21 دن تک نظرِثانی کا حق دیا جاتا ہے، مگر یہاں یہ اختیار چند ملاؤں اور درگاہوں کو دے دیا گیا ہے۔
انہوں نے سرکاری ملازمتوں اور سیاسی عہدوں میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ میرپورخاص میں سندھ پولیس کانسٹیبل کی بھرتیوں میں 382 ہندو نوجوان اوپن میرٹ پر کامیاب ہوئے، لیکن انہیں یہ کہہ کر تقرر نامے دینے سے انکار کر دیا گیا کہ ان کا کوٹہ صرف پانچ فیصد ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔
سابق رکن سندھ اسمبلی دیوان چند چاولا نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ توہینِ مذہب کے قانون کا غلط استعمال صرف اکثریتی برادری تک محدود نہیں بلکہ خود ان کے خلاف ہندو پنچایت کے ایک رہنما نے جھوٹا مقدمہ درج کرایا تھا۔
’’پہل پاکستان‘‘ کے سی ای او دیدار میرانی نے کہا کہ اس مشاورتی اجلاس کا مقصد اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق موجودہ قوانین کی پیچیدگیوں کا جائزہ لینا ہے۔ اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کی روشنی میں قوانین اور اداروں میں موجود خامیوں کی نشاندہی کر کے اصلاحات کے لیے متعلقہ حکام کو سفارشات ارسال کی جائیں گی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ سماجی بہبود سکھر زبیر مہر نے کہا کہ سندھ میں قانون سازی کا ڈھانچہ متضاد قوانین کا مجموعہ بن چکا ہے، جس کے باعث یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا قانون کہاں لاگو ہوگا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی میں مذہبی اقلیتوں کی کوئی نمائندگی موجود نہیں۔
اجلاس میں سکھر نیشنل پریس کلب کے صدر تاج رند، سماجی رہنما عاجز میرانی، ناری فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انور مہر، سکھر میونسپل کارپوریشن کی رکن عذرا جمال، غزالہ انجم، امن اتحاد کمیٹی کے رہنما بابو سچل مہر، سادھو بیلہ تیرت آستھان کے پوجاری راجیش کمار اور دیگر سماجی رہنماؤں نے بھی شرکت کی اور اقلیتی حقوق کے مؤثر تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔