موسمیاتی تبدیلی اور انسانی نسل کا مستقبل

محبوب انصاری
ہم عام طور پر موسمیاتی تبدیلی کو برفانی تودوں کے پگھلنے، سمندری سطح میں اضافے اور شدید موسم سے جوڑتے ہیں، مگر اس کی ایک خاموش اور ذاتی قیمت بھی ہے جو براہ راست انسانی جسم سے جڑی ہوئی ہے۔ گرمی صرف ماحول کو نہیں بدل رہی، بلکہ ہماری حیاتیاتی صلاحیتوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ نسل بڑھانے کی قدرتی صلاحیت بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گرمی انسان میں خواہش بڑھاتی ہے۔ لمبے دن، زیادہ روشنی اور ہلکے کپڑے ایسے ہارمونز کو متحرک کرتے ہیں جو قربت اور رغبت میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گرم مہینوں میں جنسی سرگرمی میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ اس کا نتیجہ زیادہ بچوں کی صورت میں نکلنا چاہیے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شدید گرمی کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے، اور یہ کمی وقتی نہیں بلکہ مستقل نوعیت کی ہوتی ہے۔

اس کی وجہ سمجھنے کے لیے انسانی جسم کے اندر جھانکنا پڑتا ہے۔ مردوں میں نطفہ بنانے کا نظام درجہ حرارت کے حوالے سے نہایت حساس ہے۔ خصیے جسم سے باہر اسی لیے ہوتے ہیں کہ وہ نسبتاً ٹھنڈے رہ سکیں۔ جب ماحول مسلسل گرم ہو تو یہ قدرتی نظام دباؤ میں آ جاتا ہے۔ زیادہ حرارت نطفے کی تعداد، اس کی حرکت اور جینیاتی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ مردوں میں یہ نقصان اکثر عارضی ہوتا ہے اور کچھ مہینوں میں جسم دوبارہ صحت مند نطفے بنانا شروع کر دیتا ہے۔

خواتین کے معاملے میں صورتحال کہیں زیادہ سنجیدہ ہے۔ عورت اپنے تمام انڈوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہے، اور یہ ذخیرہ محدود اور ناقابلِ تجدید ہوتا ہے۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ مسلسل گرمی خواتین میں انڈوں کی تعداد کم کرنے کا باعث بنتی ہے، اور یہ کمی واپس پوری نہیں ہوتی۔ یعنی جو نقصان ہو گیا، وہ ہمیشہ کے لیے ہو جاتا ہے۔ اس طرح گرمی خواتین میں تولیدی عمر کو خاموشی سے کم کر رہی ہے، بغیر کسی واضح علامت کے۔

جب مرد اور عورت دونوں پر یہ اثرات ایک ساتھ پڑتے ہیں تو نتیجہ فطری طور پر کم حمل کی صورت میں نکلتا ہے۔ گرمی کے دوران یا اس کے فوراً بعد حاملہ ہونے کے امکانات دونوں طرف سے کم ہو جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہیٹ ویوز اب کوئی عارضی واقعہ نہیں رہیں، بلکہ دنیا کے بیشتر حصوں میں یہ زیادہ بار، زیادہ شدت اور زیادہ طویل دورانیے کے ساتھ آ رہی ہیں۔

اس پوری کہانی میں ایک عجیب تضاد بھی موجود ہے۔ ایئر کنڈیشنر اس مسئلے کو جزوی طور پر کم کر سکتا ہے۔ ٹھنڈے کمرے، خاص طور پر سونے کے کمرے، تولیدی صحت کے لیے بہتر ثابت ہوتے ہیں۔ مگر ایئر کنڈیشنر توانائی مانگتا ہے، اور یہ توانائی اکثر ایسے ذرائع سے آتی ہے جو مزید گرمی پیدا کرتے ہیں۔ یوں ہم مسئلہ حل کرنے کے لیے جو سہولت استعمال کرتے ہیں، وہی مسئلے کو مزید آگے بھی بڑھا دیتی ہے۔

ابھی بہت کچھ ایسا ہے جو ہم پوری طرح نہیں جانتے۔ زیادہ تر تحقیق مشاہداتی ہے، تجرباتی نہیں۔ گرمی کے ساتھ فضائی آلودگی، ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی بھی جڑی ہوتی ہے، جو خود تولیدی صحت کو متاثر کرتی ہیں۔ ہر انسان کا جسم مختلف انداز میں ردعمل دیتا ہے، اور یہ فرق کیوں ہوتا ہے، اس پر تحقیق جاری ہے۔

لیکن مجموعی تصویر واضح ہے۔ موسمیاتی تبدیلی صرف مستقبل کے شہروں، فصلوں یا معیشت کا مسئلہ نہیں رہی۔ یہ انسان کے جسم کے اندر تک سرایت کر چکی ہے۔ اگر درجہ حرارت اسی طرح بڑھتا رہا تو اس کے اثرات صرف ہماری زندگی کے معیار تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ ہماری نسل کے تسلسل کو بھی متاثر کریں گے۔ یہ ایک ایسا پہلو ہے جسے نظر انداز کرنا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ یہ مسئلہ کہیں دور نہیں بلکہ ہمارے اپنے جسم کے اندر موجود ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں