انسانی جانوں سے کھیل کا تہوار! بسنت کے دوران لاہور میں 17 افراد کی ہلاکتوں کا انکشاف

لاہور(ویب ڈیسک) محکمہ داخلہ پنجاب نے بدھ کے روز لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حالیہ بسنت کے تہوار کے دوران لاہور میں 17 افراد جان سے گئے۔ یہ رپورٹ جسٹس اویس خالد کی سربراہی میں سماعت کے دوران پیش کی گئی۔

روزنامہ ڈان کی خبر کے مطابق تین روزہ بیسنت فیسٹیول 6 سے 8 فروری کے دوران لاہور میں منعقد ہوا، جو پنجاب حکومت کی جانب سے 18 برس بعد تاریخی تہوار پر عائد پابندی اٹھانے کے فیصلے کے بعد منعقد کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے سخت حفاظتی ضوابط نافذ کیے گئے تھے، تاہم اس کے باوجود بیسنت کے دوران 100 سے زائد حادثات رپورٹ ہوئے۔

درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں بیسنت کے دوران ہونے والی اموات اور زخمیوں کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔ محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق تین افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے جبکہ دو افراد درختوں سے گر کر جان کی بازی ہار گئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 12 افراد چھتوں سے گرنے کے باعث ہلاک ہوئے۔

عدالت نے بسنت کے دوران ڈور سے زخمی ہونے والے افراد کی تفصیلات بھی طلب کیں، تاہم درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ اظہر صدیق کے مطابق یہ اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔

اس سے قبل عدالت نے بیسنت کے دوران ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق پولیس رپورٹ طلب کی تھی۔ یہ سماعت جوڈیشل ایکٹوازم پینل اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر ہو رہی ہے، جن میں پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کو چیلنج کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب میں بسنت پر 2007 میں پابندی عائد کی گئی تھی، جس کی وجہ تیز دھار ڈور، خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں اور عقب میں بیٹھے افراد کی ہلاکتیں اور ہوائی فائرنگ کے واقعات تھے۔ نئے قانون کے تحت صرف دھاگے سے بنی ڈور کی تیاری کی اجازت دی گئی جبکہ دھاتی، کیمیائی یا نوکیلی ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی گئی۔

حفاظتی اقدامات کے تحت لاہور کو تین پتنگ بازی زونز میں تقسیم کیا گیا، چوبیس گھنٹے نگرانی کا نظام قائم کیا گیا، موٹر سائیکلوں پر حفاظتی تاریں یا اینٹینا لگانے کی ہدایت دی گئی، جبکہ ہوائی فائرنگ اور چھتوں پر شراب نوشی پر پابندی عائد کی گئی۔

بسنت کے انعقاد کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے لاہور میں “محفوظ بسنت” کے انعقاد کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ تہوار کے دوران ڈور سے کسی شخص کی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

اپنا تبصرہ لکھیں