ایران(ویب ڈیسک) کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران موجودہ شدت اور رفتار کے ساتھ کم از کم 6 ماہ تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیاں ایران کے خلاف تیزی سے پھیل رہی ہیں، جبکہ ایران خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دے رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی طویل جنگ لڑنے کی صلاحیت کا بڑا انحصار اس کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون پروگرام پر ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق ایران کے پاس 2500 سے 6000 تک بیلسٹک میزائل موجود ہیں جبکہ ایران ہر ماہ تقریباً 10 ہزار ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے آغاز کے چند ہی دنوں میں ایران 200 سے زائد میزائل اور 120 ڈرون اسرائیل کی جانب داغ چکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران روایتی فضائی طاقت کے بغیر بھی میزائل اور ڈرون کے ذریعے طویل عرصے تک دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔
ایرانی فوجی حکمت عملی براہ راست بڑی جنگ جیتنے کے بجائے طویل المدتی اور تھکا دینے والی جنگ پر مبنی ہے۔ اس حکمت عملی میں مسلسل میزائل اور ڈرون حملے، بحری راستوں کو خطرے میں ڈالنا، خطے میں اتحادی گروہوں کا استعمال اور دشمن کی معاشی و دفاعی لاگت بڑھانا شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران میزائل حملوں کی رفتار برقرار رکھتا ہے تو اسرائیل کو دفاعی نظام اور انٹرسیپٹر میزائل کی فراہمی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے