تہران(ویب ڈیسک) مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران کے تیسرے سپریم لیڈر بن گئے ہیں۔
ایرانی آئین کے تحت 88 ارکان پر مشتمل مجلس خبرگانِ رہبری نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کے اعلیٰ ترین سیاسی و مذہبی عہدے کے لیے منتخب کیا۔ ان کے والد علی خامنہ ای گزشتہ ہفتے امریکہ اور اسرائیل کے مبینہ فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
مجتبیٰ خامنہ ای 8 ستمبر 1969 کو ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں پیدا ہوئے جو ملک کا ایک اہم مذہبی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ وہ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے اور معروف عالم دین جواد خامنہ ای کے پوتے ہیں۔
ان کی پرورش ایک ایسے سیاسی ماحول میں ہوئی جہاں ان کے والد پہلے ایرانی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے اور بعد میں 1989 میں سپریم لیڈر کے منصب پر فائز ہوئے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے زہرا حداد عادل سے شادی کی جو ایرانی سیاست دان غلام علی حداد عادل کی بیٹی ہیں۔ زہرا حداد عادل بھی تہران میں خامنہ ای خاندان کے رہائشی کمپاؤنڈ پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل تھیں۔
تعلیم اور مذہبی تربیت
مجتبیٰ خامنہ ای نے دینی تعلیم ایران کے شہر قم میں حاصل کی، جو شیعہ مذہبی تعلیم کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں واقع مدارس میں ایران کے زیادہ تر علما کی تربیت ہوتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وہ قم کے مدارس میں اعلیٰ درجے کی فقہی تعلیم درسِ خارج بھی پڑھاتے رہے ہیں، جو حوزۂ علمیہ میں تعلیم کی بلند ترین سطح تصور کی جاتی ہے۔
سیاسی کردار اور اثر و رسوخ
مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی براہِ راست انتخابات میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی کسی عوامی عہدے کے لیے ووٹ حاصل کیا، تاہم انہیں طویل عرصے سے ایرانی اقتدار کے اندرونی حلقوں میں بااثر شخصیت سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے ایران کی طاقتور فوجی تنظیم اسلامی انقلابی گارڈ کور کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں، جس کے باعث انہیں نظام کے اندر نمایاں اثر و رسوخ حاصل رہا۔
مشکل حالات میں قیادت
مجتبیٰ خامنہ ای ایسے وقت میں ایران کی قیادت سنبھال رہے ہیں جب خطے میں شدید کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی قیادت سنبھالنے والا کوئی بھی شخص اسرائیل کے لیے ہدف بن سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسی دوران امریکی محکمہ خزانہ پہلے ہی 2019 میں مجتبیٰ خامنہ ای پر پابندیاں عائد کر چکا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے والد کی نمائندگی کرتے ہوئے غیر رسمی طور پر اہم امور میں کردار ادا کرتے رہے ہیں