قطر کا ایران سے حملے روکنے کا مطالبہ، 90 فیصد حملے ناکام بنانے کا دعویٰ

دوحہ (ویب ڈیسک): قطر نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ممالک پر حملے بند کرے جنہوں نے اسے نشانہ نہیں بنایا، جبکہ قطری حکام کا کہنا ہے کہ ان کا دفاعی نظام 90 فیصد سے زائد حملے ناکام بنا چکا ہے۔

خلیج میں بڑھتی کشیدگی کے دوران قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ ایران کو فوری طور پر حملے روکنے کا فیصلہ کرنا چاہیے اور اس کے لیے مزید تحقیقاتی کمیٹیوں کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ قطر نے جنگ کے آغاز سے ہی خود کو اس تنازع سے دور رکھا، اس کے باوجود اسے حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
قطر پر حملوں کی تفصیلات

ترجمان کے مطابق گزشتہ روز قطر پر پانچ ڈرون حملے کیے گئے جبکہ ایک رہائشی کمپلیکس کو میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش بھی کی گئی، جسے دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ حملوں میں شہری علاقوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جس سے حماد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت مختلف شہری مقامات کو خطرات لاحق رہے۔

قطری مسلح افواج نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 90 فیصد سے زائد حملوں کو ناکام بنایا اور شہریوں و غیر ملکی رہائشیوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے۔

قطر کا ردعمل اور عالمی رابطے

ماجد الانصاری نے واضح کیا کہ قطر اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر حملوں کا جواب دینے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔

ان کے مطابق خلیجی ممالک کے رہنماؤں اور وزرائے خارجہ کے درمیان مسلسل رابطے جاری ہیں اور ایرانی حملوں کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ قطر امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ بھی علاقائی سلامتی کے حوالے سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔

لبنان میں اسرائیلی حملوں کی مذمت

قطری ترجمان نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور متاثرین کے لیے فوری انسانی امداد کا اعلان کیا۔

ان کے مطابق امدادی پروگرام کے تحت 40 ہزار سے زائد متاثرہ خاندانوں کو خوراک اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں