ریاض (ویب ڈیسک): ریاض میں منعقدہ عرب اور اسلامی ممالک کے اہم مشاورتی اجلاس میں 12 ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایران کی جانب سے مبینہ حالیہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق شہری آبادی، ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات، سفارتخانوں اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
شرکاء نے خلیجی ریاستوں، اردن، آذربائیجان اور ترکی پر حملوں کو مکمل طور پر ناقابلِ جواز قرار دیتے ہوئے ایران پر زور دیا کہ وہ فوری اور بلا مشروط جارحیت بند کرے، عالمی قوانین اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری کرے اور دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ متاثرہ ممالک کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ ساتھ ہی ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مختلف ملیشیاؤں کی مالی و عسکری حمایت اور اسلحہ کی فراہمی فوری طور پر بند کرے۔
اعلامیے میں عالمی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، جبکہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 پر مکمل عملدرآمد کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس میں لبنان کی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے لبنان کی خودمختاری اور استحکام کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے وہاں اسرائیلی جارحیت اور مبینہ توسیع پسندانہ پالیسیوں کی شدید مذمت کی۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران کے حملوں پر خاموش نہیں رہا جائے گا، اگر جارحیت نہ رکی تو نتائج سنگین ہوں گے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے باہمی مشاورت اور تعاون کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ کشیدگی کم کر کے پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔