سکھر: پی ٹی آئی کا ورکرز کنونشن، 27ویں ترمیم سے آئین کے مزید ٹکڑے ہوں گے: حلیم عادل شیخ

سکھر(رپورٹر) پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ “27ویں آئینی ترمیم کا اصل مقصد اُس وقت واضح ہوگا جب مسودہ سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔ 26ویں ترمیم کے بعد ملک میں آئین پہلے ہی کمزور ہو چکا ہے، نئی ترمیم کے نتیجے میں آئین کے مزید حصے متاثر ہوسکتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کسی بھی ایسی ترمیم کی حمایت نہیں کرے گی جو 1973ء کے آئین سے ٹکراتی ہو، صوبائی خودمختاری میں مداخلت کا باعث بنے یا عدلیہ کی آزادی سلب کرے۔

بدھ کی رات وہ پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے روہڑی میں ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے. کنونشن میں سکھر اور خیرپور کے سینکڑوں کارکنان نے شرکت کی.

کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ اصل امتحان اب پیپلز پارٹی کے لیے ہے کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے یا طاقتور حلقوں کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ “پیپلز پارٹی کا اصل چہرہ جلد بے نقاب ہوگا۔”

عمران خان کی قید سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ حقیقی قیدی وہ ہیں جو اپنے فیصلوں میں آزاد نہیں، جنہیں بیرونی اشاروں کا انتظار ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ “عمران خان 6×8 کے کمرے میں بھی آزاد ہے، وہ عوامی آزادی اور اپنے نظریے پر قائم ہے۔”

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ شہریار آفریدی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت اسی لیے نہیں دی جا رہی کہ وہ ممکنہ طور پر ہدایات لے آئیں۔ “اسٹیبلشمنٹ اس خوف میں مبتلا ہے، مگر وقت بہت جلد بدلنے والا ہے، سندھ میں وڈیروں اور جاگیرداروں کی سرپرستی میں ڈاکو راج ہے، سندھ کے عوام وڈیروں کو اسمبلیوں سے باہر نکال پھینکے گے۔”

پی ٹی آئی کے صدر نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اقتدار کے دوران پارٹی نے نظریاتی کارکنوں کو نظرانداز کیا۔ “یہ پی ٹی آئی کا پہلا اقتداری دور تھا، غلطیاں ہوئیں، مگر اب جب بھی موقع ملا تو نظریاتی اور مشکل وقت کے ساتھیوں کو آگے لایا جائے گا۔”

پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے اپنی خطاب میں سکھر نیشنل پریس کلب اور اس کی قیادت ساحل جوگی اور تاج رند کا نام لیتے ہوئے کہا کہ سکھر نیشنل پریس کلب نے ہمیشہ ظلم و جبر کو للکار کر مظلوموں کا ساتھ دیا ہے، ہم ان کو سلام پیش کرتے ہیں.

پی ٹی آئی سندھ کے سینئر نائب صدر مولابخش سومرو نے کہا کہ پیپلز پارٹی جاگیرداروں کی جماعت ہے اور اسے ووٹ دینا سندھ کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو بدترین شکست ہوگی۔

پی ٹی آئی کسان ونگ سندھ کے جنرل سیکریٹری اقبال بجارانی نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو سطحی اختلافات بھلا کر عوامی حکمرانی کے بڑے مقصد کے لیے متحد ہونا ہوگا۔

پی ٹی آئی یو تھ ونگ سندھ کے صدر عزیز ابڑو نے کہا کہ 77 سال سے سندھ پر وڈیرے مسلط ہیں جنہوں نے عوام کے حقوق غضب کیے۔ انہوں نے مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے والے کارکنوں کو سلام پیش کیا۔

روہڑی کے مقامی رہنما نیک محمد چھجن نے خطاب میں کہا کہ عمران خان غلامی کی زنجیریں توڑنے کی جدوجہد کر رہا ہے اور ایک فرد نے چوروں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے پانی اور وسائل کی سوداگر ہے۔

کنونشن سے میان اسلم، منظور کھوسو، سیف الله بھلکانی، دعوا خان، تقي شاہ، امام علی شاہ اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں