کراچی(ويب ڈیسک) کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ پر 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود قابو نہ پایا جا سکا، جبکہ حکام نے المناک آتشزدگی میں فائرفائٹر سمیت 6 افراد کی ہلاکت، 30 سے زائد زخمی اور 60 سے زیادہ افراد لاپتا ہونے کی تصدیق کردی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ کے باعث گل پلازہ کا گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکا ہے، جبکہ شدید حرارت اور کمزور اسٹرکچر کے باعث عمارت کے متعدد حصے زمین بوس ہو گئے ہیں۔ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس میں خصوصی ڈیسک قائم کر دیا گیا ہے، جہاں اب تک درجنوں خاندانوں نے اپنے پیاروں کی گمشدگی کی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔
بہنوئی کی آخری کال آئی کہ ہمارے لئے دعا کریں
گل پلازہ میں آتشزدگی کے باعث درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں جن میں مبینہ طور پر سکھر کے رہائشی محمد اطہر بھی شامل ہیں. ان کے سالے جہانزیب کے مطابق اطہر ہفتے کے روز خریداری کیلئے کراچی گئے، آخری بار انہوں نے بیگم کو کال کر کہا کہ “ادھر آگ لگی ہوئی ہے، بہت دھواں ہے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا، ہمارے لئے دعا کریں”. جبکہ حکام کے مطابق متاثرین میں شاپنگ مال کا ملازم عارف شامل بھی ہے جو گزشتہ شب سے لاپتا ہے، جبکہ شادی کی خریداری کے لیے آنے والے ایک ہی خاندان کی چار خواتین کا بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

ملبے تلے آوازیں، زندگی کی پکار
عینی شاہدین کے مطابق شاپنگ مال کے بیسمنٹ اور اندرونی حصوں سے وقفے وقفے سے آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں، جس کے باعث زندہ افراد کی موجودگی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ تاہم مخدوش عمارت میں ریسکیو اہلکاروں کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔
ریسکیو آپریشن میں 3 اسنارکلز، 2 واٹر باؤزرز اور 14 فائر ٹینڈرز حصہ لے رہے ہیں۔ فائر بریگیڈ حکام کے مطابق ہر گزرتا لمحہ فائرفائٹرز کے لیے ایک نئی آزمائش ہے، کیونکہ وہ صرف آگ ہی نہیں بلکہ موت کے سائے میں کام کر رہے ہیں۔
آگ بجھانے اور ملبہ ہٹانے کے کام میں پاک فوج اور ایف ڈبلیو او کی مشینری اور دستے بھی شامل کر لیے گئے ہیں، جبکہ اسپیشل انجینئرنگ ٹیم کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں بھرپور تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب تاجر رہنما عتیق میر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سانحے میں تاجروں کو تقریباً 3 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ہر دکان میں اوسطاً 25 سے 30 لاکھ روپے کا مال موجود تھا، جبکہ شادیوں کا سیزن اور عید کی آمد کے باعث نقصان مزید سنگین ہو گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ تاجروں کے لیے بولٹن مارکیٹ طرز کا ریلیف پیکج فوری طور پر اعلان کیا جائے، اور شہر میں یومِ مذمت اور یومِ سوگ منایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ جب تک آگ پر مکمل قابو نہیں پا لیا جاتا، سرچ اینڈ ریسکیو کا عمل محدود پیمانے پر جاری رہے گا، جبکہ لاپتا افراد کی حتمی تعداد کا تعین بعد میں ممکن ہو سکے گا۔