جامشورو: خوراک گودام سے 64 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گندم فروخت ہونے کا انکشاف، فوڈ انسپیکٹر گرفتار

جامشورو(ویب ڈیسک) جامشورو میں محکمہ خوراک سندھ کے بولھاڑی گندم گودام سے 64 کروڑ 48 لاکھ 35 ہزار روپے مالیت کی سرکاری گندم مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے تین افسران کے خلاف مقدمہ درج کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

اینٹی کرپشن حکام کے مطابق ایف آئی آر میں فوڈ کنٹرولر نوید احمد طاہر، فوڈ انسپکٹر اللہ ڈنو میمن اور فوڈ سپروائزر علی رضا بروہی کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ کارروائی کے دوران فوڈ انسپکٹر اللہ ڈنو میمن کو ضلعہ نوشهروفيروز کے پڈعیدن کے علاقے سے گرفتار کر لیا گیا۔

اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ دسمبر 2025 میں محکمہ خوراک کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے بولھاڑی گودام سے گندم غائب ہونے کی باضابطہ شکایت درج کرائی تھی، جس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بولھاڑی گودام سے کروڑوں روپے مالیت کی گندم غائب کی گئی، جبکہ گرفتار ملزم گودام کے روزمرہ امور کا مکمل ذمہ دار تھا۔

اینٹی کرپشن کے مطابق ملزم جعلی چالان جاری کر کے سرکاری گندم صوبے سے باہر منتقل کرتا رہا، جس کے باعث سرکاری خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔ حکام کا کہنا ہے کہ نامزد دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں