کراچی(ويب ڈیسک) سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اتوار کو 6.135 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے کورنگی کاز وے پل کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس پل کی تکمیل کے بعد بارش کے دنوں میں یہ راستہ بند نہیں ہوگا اور روزانہ تقریباً 50 لاکھ افراد اس سے استفادہ کریں گے۔
کورنگی کاز وے پل کی افتتاحی تقریب کے دوران وزیراعلیٰ نے حالیہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے خصوصی دعا بھی کروائی۔ انہوں نے شرکاء سے ایصالِ ثواب کے لیے سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الاخلاص پڑھنے کی اپیل کی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کورنگی کاز وے کا علاقہ بارش کے دوران مکمل طور پر کٹ جاتا تھا، جس سے شہر عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا تھا۔ ان کے مطابق اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے تقریباً تین سال قبل پل کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا، تاہم ڈیزائن سے متعلق مسائل کے باعث منصوبے میں تاخیر ہوئی۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ یہ پل تقریباً 1.4 کلومیٹر طویل اور چھ لینز پر مشتمل ہے، جس سے کورنگی، لانڈھی کے صنعتی علاقوں کے ساتھ ساتھ انڈس اسپتال، ایس آئی یو ٹی، تعلیمی اداروں اور رہائشی آبادیوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ شاہراہِ بھٹو کو عید کے بعد کورنگی روڈ سے کاٹھوڑ (ایم نائن) تک ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے تحت تعمیر ہونے والے گریڈ سیپریٹڈ انٹرچینجز اور کنیکٹنگ لوپس کراچی کی ٹریفک روانی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، صوبائی وزیر محنت سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔
گل پلازہ سانحہ: امداد اور بحالی کے اقدامات
گل پلازہ کے سانحے پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی دن جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے فی کس معاوضے کا اعلان کیا تھا، اگرچہ انسانی جان کے نقصان کا کوئی ازالہ ممکن نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ دکانداروں کے لیے فوری طور پر فی دکاندار 5 لاکھ روپے بطور گزارہ معاونت دی جائے گی تاکہ وہ آئندہ دو ماہ کے دوران گھریلو اخراجات، بچوں کی فیس اور یوٹیلیٹی بلز ادا کر سکیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق تقریباً 1,300 متاثرہ دکانوں کو دو ماہ کے اندر متبادل مقامات فراہم کیے جائیں گے۔
مراد علی شاہ نے مزید اعلان کیا کہ سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت متاثرہ دکانداروں کو ایک کروڑ روپے تک کا بلا سود قرض دیا جائے گا، جس کا مارک اپ سندھ حکومت خود ادا کرے گی۔ ان کے مطابق قرض کے لیے کسی سفارش کی ضرورت نہیں ہوگی۔
گل پلازہ کی تعمیرِ نو اور تحقیقات
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازہ کو نئے اور محفوظ ڈیزائن کے ساتھ دوبارہ تعمیر کیا جائے گا، جہاں ہنگامی اخراج کے راستوں اور فائر سیفٹی کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئی عمارت میں دکانوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے تصدیق کی کہ گل پلازہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔ ان کے مطابق اس سانحے میں 80 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور جو بھی ذمہ دار پایا گیا اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
فائر سیفٹی اقدامات
وزیراعلیٰ نے اعتراف کیا کہ فائر سیفٹی کے حوالے سے ادارہ جاتی کمزوریاں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تجارتی عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹس شروع کر دیے گئے ہیں اور جہاں فوری اقدامات ممکن ہوں گے، وہاں ایک ہفتے کے اندر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔