حیدرآباد(انڈس ٹربیون) حیدرآباد کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نمبر ایک نے سندھ کے معروف شاعر آکاش انصاری کے قتل کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مقتول کے منہ بولے بیٹے شاہ لطیف انصاری کو سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔
فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج تصور راجپوت کی عدالت کی جانب سے جاری 22 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ ملزم کے خلاف قتل کا الزام ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔ عدالت نے واضح کیا کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو مزید قید کا سامنا کرنا ہوگا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق 15 فروری 2025 کو حیدرآباد کے علاقے شاہ لطیف کالونی قاسم آباد میں معروف شاعر آکاش انصاری کو ان کے گھر کے اندر چھریوں کے وار اور آگ لگا کر بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ اس واقعے کا مقدمہ بھٹائی نگر تھانے میں مقتول کے عزیز ابراہیم عرف جان محمد انصاری کی مدعیت میں درج کیا گیا، بعد ازاں کیس کی پیروی حکومتِ سندھ نے کی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم شاہ لطیف انصاری نے خود ریسکیو 1122 کو فون کیا تھا، جبکہ تفتیش کے دوران اس کے قبضے سے خون آلود شرٹ اور پتلون، پٹرول کی بوتل اور آلۂ قتل برآمد ہوا۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقتول کی ایک ہی حقیقی بیٹی میرا ہے، جبکہ شاہ لطیف کو آکاش انصاری نے تقریباً 22 برس قبل گود لیا تھا۔

ابتدائی تفتیش اے ایس آئی مقصود احمد نے کی، جس کے بعد ایس ایچ او طاہر خانزادہ نے مقدمے کی پیروی کی۔ کیس میں ابتدا میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی تھیں، تاہم بعد میں انہیں خارج کر دیا گیا۔
فیصلہ سنائے جانے کے بعد ملزم کو سخت سیکیورٹی میں حیدرآباد سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ملزم ایک ماہ کے اندر سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق رکھتا ہے۔
فیصلے کے وقت مقتول کے دوست، مداح اور وکلا بڑی تعداد میں عدالت میں موجود تھے، جنہوں نے سزا سنائے جانے کے بعد آکاش انصاری کی شاعری کے اشعار گنگنائے۔