عورت فاؤنڈیشن کی 40ویں سالگرہ: ’پاکستان کی تاریخ خواتین کے بغیر نامکمل ہے‘، آصفہ بھٹو زرداری

کراچی(انڈس ٹربیون) وزیر اعلیٰ ہاؤس کراچی میں عورت فاؤنڈیشن کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ خواتین کے بغیر نامکمل ہے اور حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب خواتین کو ہر شعبے میں بامعنی شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، چیف سیکریٹری سندھ، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور ملک بھر سے عورت فاؤنڈیشن کی قیادت نے شرکت کی۔

’خواتین کی جدوجہد کو خراجِ تحسین‘

آصفہ بھٹو زرداری نے عورت فاؤنڈیشن کی چار دہائیوں پر محیط جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق ہر گفتگو انہیں اپنی والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی یاد دلاتی ہے، جو خواتین کی علامتی نمائندگی کے بجائے عملی اور مؤثر شمولیت پر یقین رکھتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیش رفت کے باوجود پاکستان میں خواتین کو اب بھی سنگین چیلنجز درپیش ہیں اور ہر بچی کو مکمل حقوق کی فراہمی کے بغیر حقیقی آزادی ممکن نہیں۔

اس موقع پر آصفہ بھٹو زرداری کو گلوبل پیس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

مراد علی شاہ کا 5 کروڑ روپے گرانٹ کا اعلان

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عورت فاؤنڈیشن کے لیے 5 کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا اور صنفی مساوات و خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے حکومت سندھ کے عزم کا اعادہ کیا۔

1986 سے جدوجہد کا سفر

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عورت فاؤنڈیشن کی صدر انیس ہارون نے تنظیم کے قیام (1986) سے لے کر اب تک کے سفر پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی دور میں خواتین کو عوامی زندگی میں محدود شناخت حاصل تھی اور مساوات کے مطالبات پر انہیں لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم وہ اپنے مؤقف پر ڈٹی رہیں۔

تقریب کے دوران آصفہ بھٹو زرداری نے عورت فاؤنڈیشن کی 40 سالہ جدوجہد پر مبنی کتاب کی رونمائی اور تنظیم کے سفر پر تیار کی گئی دستاویزی فلم کا افتتاح بھی کیا۔

مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات پر اعزازات

تقریب میں سیاست، انسانی حقوق، تعلیم، صحافت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، اقلیتی حقوق، معذور افراد کی قیادت اور کمیونٹی سروسز سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو ایوارڈز سے نوازا گیا۔

لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ شہناز وزیر علی اور جسٹس (ر) ماجدہ رضوی کو دیا گیا جبکہ سیاسی قیادت پر شازیہ عطا مری اور رانا انصار کو اعزاز دیا گیا۔ رابعہ ملک کو اسپیشل پرسنز لیڈرشپ ایوارڈ اور پاکستانی نژاد امریکی نتالیہ رحیم کو کمیونٹی سروسز ایوارڈ دیا گیا۔

ٹیکنالوجی انوویشن ایوارڈ نصرت بھٹو یونیورسٹی کی طالبات کو زرعی ڈرون تیار کرنے پر دیا گیا۔ اس کے علاوہ صحافی ماریہ اسماعیل، ڈی آئی جی شیبا شاہ، سسٹر کیتھرین، منگلا شرما، ایڈووکیٹ آسیہ منیر، مرزا اشتیاق بیگ اور ایڈووکیٹ غزالہ کاشف سمیت دیگر شخصیات کو بھی مختلف شعبوں میں خدمات کے اعتراف میں اعزازات دیے گئے۔

’ترقی پسند قانون سازی میں سندھ کی قیادت‘

عورت فاؤنڈیشن کے بورڈ آف گورنرز کی صدر معصومہ حسن نے کہا کہ 40 سال کی جدوجہد کے بعد خواتین کو بااختیار بنانے کا خواب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ انہوں نے خواتین کے تحفظ کے لیے سندھ کی ترقی پسند قانون سازی، خصوصاً گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی کا حوالہ دیتے ہوئے اسے اہم پیش رفت قرار دیا۔

تقریب کا اختتام صنفی مساوات، انصاف اور وقار کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ ہوا، جبکہ مقررین نے گزشتہ چار دہائیوں میں عورت فاؤنڈیشن کے کردار کو خواتین کے حقوق کی تحریک میں بنیادی سنگِ میل قرار دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں